Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
848 - 882
 ہے۔ لہٰذا وہ لوگ اپنی عورتوں کوحالتِ حمل میں بِہی دانہ اور بچے کی پیدائش کے بعد کھجور کھلایاکرتے ۔
	مذکورہ  واقعات سے ظاہر ہوتاہےکہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے اپنی حکمت ظاہر کرنے کے لئےہر چیزکے ساتھ کسی نہ کسی سبب کاتعلق قائم کیاہےلہٰذا تمام ادویات اسی طرح اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کےحکم کی پابند ہیں جس طرح دیگر اسباب پابند ہیں۔ چنانچہ جس طرح بھوک کی دوا روٹی اور پیاس کی دواپانی ہےاسی طرح صَفْراوِی بیماری کی دوا ’’سِکَنْج بِیْن‘‘ اور قبض دورکرنے کی دوا’’سَقْمُوْنِیا‘‘ہے۔ان دونوں میں کوئی فرق نہیں مگر دو وجہوں  سے:
بیماری اور بھوک پیاس کے اسباب میں فرق:
	پہلی وجہ یہ ہے کہ روٹی اور پانی کے ذریعے بھوک و پیاس کا علاج کرنابالکل ظاہر ہے جسے ہر ایک جانتا ہے جبکہ سِکَنْج بِیْن  کے ذریعہ صَفراوی بیماری کےعلاج  کو بعض لوگ ہی جانتے ہیں اور جو اسے تجربہ کرکے جان لیتا ہے تویہ اس کے لئےبھوک و پیاس کے علاج کی مانند ہے۔دوسری وجَۂ فرق یہ ہےکہ اگرچہ سَقْمُوْنِیا دوائی کا کام قبض دور کرنااورسِکَنْج بِیْن کاکام صَفراوی بیماری  کو سکون پہنچانا ہےلیکن باطنی اعتبار سے ان کی کچھ شرطیں اور مزاجی اعتبار سے کچھ اسباب ہیں۔جب تک مزاج میں تمام اسباب جمع نہ ہوپائیں یاکوئی شرط پائی نہ جائے تو اس وقت دوا قبض دور کرنے میں نا کام رہتی  ہےجبکہ پیاس پانی کے علاوہ کسی دوسری شرط یا سبب کو طلب ہی نہیں کرتی، البتہ کبھی ایسا بھی ہوجاتاہےکہ کئی اسباب جمع ہوجائیں اورکثرت سے پانی پینے کے باوجود پیاس نہ بجھے تو ایسا شاذونادر ہوتاہے۔
	مذکورہ دونوں باتوں  کی وجہ سے ہی  اسباب میں خرابی پیداہوتی ہےورنہ تمام شرطوں کی موجودگی میں سبب پایاجائے تو وہ چیز بھی پائی جائے گی حالانکہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ہی اپنی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ کے ساتھ اسباب کو پیدا کرنے والا،مسخر کرنے والااور ترتیب دینےوالاہے لہٰذاان چیزوں کے استعمال کرنے سے توکل میں کوئی فرق نہیں آتا جبکہ نظرطبیب اور دوائی پر نہ ہو بلکہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  پر ہو۔
شفا اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی طرف سے ہے:
	روایت میں ہےکہ حضرت سیِّدُنا موسٰیکَلِیْمُاللہعَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے بارگاہِ الٰہی میں عرض کی: