آنکھوں کو دیکھ کر ارشاد فرمایا:”تم کھجورمت کھاؤ۔“اور جَو کے آٹے میں پکےہوئے ساگ کی جانب اشارہ کرکے فرمایا: ”اسے کھاؤ،یہ تمہارے لئے زیادہ بہتر ہے۔“(1) ٭…حضرت سیِّدُنا صُہَیْب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ آنکھ میں تکلیف کےباوجود کھجور کھارہے تھے، انہیں دیکھ کر ارشاد فرمایا:”تم کھجورکھارہے ہوحالانکہ تمہاری آنکھ میں تکلیف ہے۔“ عرض کی:”(جس آنکھ میں تکلیف ہےاس جانب سےنہیں) دوسری جانب سے کھا رہا ہوں۔ “ یہ سن کر سرکارِ مدینہ، قرارِ قلب وسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے تبسم فرمایا۔(2)
حضورصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کا دوائی استعمال کرنا اور علاج کروانا:
بےشمار احادیث ملتی ہیں کہ٭…حضوراکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہررات سُرمَہ لگاتے، ہرمہینہ پچھنے لگواتےاور ہر سال دَوا پیا کرتے۔(3)٭…کئی مرتبہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے بچھو وغیرہ کے کاٹنے کا علاج کروایا۔(4)٭…ایک روایت میں ہے کہ جب وَحی نازل ہوتی توسَرمبارک میں کچھ تکلیف محسوس ہوتی،لہٰذا آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اپنے سرِاقدس میں مہندی لگوایا کرتے۔(5)٭…جب کبھی زخم لاحق ہوتا تو اس پر مہندی لگاتے اور(6)٭…ایک روایت میں زخم پر مِٹی چھڑکنا بھی آیا ہے۔(7)
دوائی استعمال کرنےاور علاج تجویز کرنےکے بارے میں بے شمار روایات ہیں نیزاسی موضوع پر ایک کتاب’’طِبُّ النَّبِی‘‘کے نام سےبھی ہے۔
علاج کے متعلق انبیائے کرام کےچار واقعات :
(1)…منقول ہے کہ ایک مرتبہ حضرت سیِّدُنا موسٰی کلیمُ اللہ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو مرض لاحق ہوا
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…سنن الترمذی، کتاب الطب، باب ماجاء فی الحمیة،۴/ ۳، حدیث:۲۰۴۳ …… المعجم الکبیر، ۲۴/ ۲۹۷، حدیث:۷۵۳
2…سنن ابن ماجہ، کتاب الطب، باب الحمیة،۴/ ۹۱، حدیث:۳۴۴۳
3…الکامل فی ضعفاء الرجال لابن عدی، ۴/ ۵۰۴،الرقم:۸۵۰سیف بن محمد
4…المعجم الکبیر، ۲/ ۲۸۷، حدیث:۲۱۹۶
5…المعجم الاوسط، ۴/ ۱۷۶، حدیث:۵۶۲۹
6…سنن الترمذی، کتاب الطب، باب ما جاء فی التداوی بالحناء، ۴/ ۱۱، حدیث:۲۰۶۱
7…مسلم، کتاب السلام، باب استحباب الرقیة من العین…الخ، ص۱۲۰۶، حدیث:۲۱۹۴