(3)…بارگاہِ رسالت میں ایک شخص نے سوال کیا:”کیا دَم اور دَوا تقدیر کافیصلہ بدل سکتے ہیں؟“ ارشاد فرمایا:”ان کا تعلق بھی تقدیرالٰہی سے ہے۔“(1)
(4)…میں ملائکہ کے جس گروہ کے پاس سے گزرا اُس نے مجھے یہی کہا:”آپ اپنی امت کو پچھنے لگانے کا حکم دیجئے۔“(2)
(5)… (چاند کی )17،19اور21تاریخ کو پچھنےلگوایاکروکہ کہیں خون جوش مار کر تمہیں ہلاک نہ کردے۔(3)
حدیْثِ پاک سے معلوم ہواکہ موت کا ایک سبب خون کا جوش مارنا ہےکہ یہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے حکم سے ہلاک کردیتاہےنیزیہ معلوم ہواکہ خون نکلوانے سے اس کا جوش ختم ہوجاتاہےکیونکہ جسم سےفاسد خون نکالنا ایسے ہی ہے جیسے کپڑوں کے نیچے سے بچھو یا گھر سے سانپ نکالنا۔ ظنی اسباب سے دوررہنا توکل کی شرط نہیں ہے بلکہ انہیں اختیار کرناگھر میں آگ لگ جانے پر اسے بجھانے کے لئے پانی ڈالنے کی طرح ہے،یوں ہی وکیل کے بتائے ہوئے طریقہ پر عمل نہ کرناتوکل کے خلاف نہیں ہے۔
(6)…جو شخص چاندکی17تاریخ بروز منگل کو پچھنےلگوائے تو یہ اس کے لئے سال بھر کی بیماری کا علاج ہے۔(4)
جہاں تک علاج کا حکم دینے کی بات ہے تو اس کے متعلق درج ذیل فرامین ہیں۔حضور نبیّ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نےکئی صحابَۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کےلئےدوائی اور پرہیز تجویز فرمایا۔ ٭…خود بنفس نفیس حضرت سیِّدُنااَسْعَد بن مُعاذرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی رَگ سے فاسد خون نکالا۔(5) ٭…حضرت سیِّدُنا سعد بن زرارہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کا جسم داغ کر علاج فرمایا۔(6)٭…حضرت سیِّدُنا علیُّ المرتضیٰکَرَمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کی دکھتی
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…سنن ابن ماجہ، کتاب الطب، باب ما انزل اللہ داء…الخ، ۴/ ۸۸، حدیث:۳۴۳۷
2…سنن الترمذی، کتاب الطب، باب ما جاء فی الحجامة، ۴/ ۱۰، حدیث:۲۰۵۹
3…مسند البزار، مسند ابن عباس، ۱۱/ ۱۷۸، حدیث:۴۹۱۷
4…السنن الکبری للبیھقی، کتاب الضحایا، باب ما جاء فی وقت الحجامة، ۹/ ۵۷۲، حدیث:۱۹۵۳۷
5…مسلم، کتاب السلام، باب لکل داء داواء واستحباب التداوی، ص۱۲۱۱، حدیث:۲۲۰۸
6…سنن الترمذی، کتاب الطب، باب ما جاء فی الرخصة وفی ذالك،۴/ ۹، حدیث:۲۰۵۷
نوٹ: متن میں ”سعد“ مذکورتھا جبکہ درست ”اسعد“ ہے۔لہٰذاہم نے ’’اسعد‘‘لکھ دیاہے