طب میں ظاہری اسباب ہیں۔ (۳)…وہمی اسباب مثلاًبدن داغنا اور جھاڑ پھونک کروانا۔
یقینی اسباب:
ان سے دور رہنا توکل کے خلاف نہیں بلکہ موت کاخوف ہوتو انہیں اختیار نہ کرناحرام ہے۔
وہمی اسباب:
انہیں اختیار نہ کرنا توکل کی شرط ہےکیونکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکے محبوب،دانائےغیوبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے متوکلین کےیہی اوصاف بیان فرمائے ہیں کہ وہ بدن داغتے ہیں نہ جھاڑ پھونک کرواتے ہیں۔سب سے بڑھ کروہمی سبب بدن داغنا،جھاڑ پھونک کروانااور فال نکلواناہےکہ ان پر اعتماد اور بھروسا کرناظاہری اسباب میں ڈوب جاناہے۔
ظنی اسباب:
یعنی درمیانہ درجہ مثلاً: طبیب کا ظاہری اسباب کے ذریعے علاج کرنا۔
وہمی اسباب کے برخلاف ظنی اسباب اختیار کرناتوکل کے خلاف نہیں، البتہ ان کا ترک یقینی اسباب کی طرح ممنوع بھی نہیں بلکہ بعض حالتوں میں اوربعض لوگوں کے لئےان پر عمل کرناافضل ہے ۔حضورنبی کریم،رَءُوْفٌ رَّحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کےقول وفعل اور علاج تجویز کرنے سےیہ بات ثابت ہےکہ دوا استعمال کرنا توکل کے خلاف نہیں ہے۔
علاج کے متعلق چھ فرامین مصطفٰے:
(1)…موت کےسواہربیماری کا علاج ہے،اس کی پہچان وہی رکھتاہےجواسےجانتاہےاورنہ جاننےوالاوہی ہے جو پہچان نہیں رکھتا۔(1)
(2)…اےاللہ عَزَّ وَجَلَّ کے بندو! علاج کیا کرو(2) کہ بیماری اوردوادونوں کو پیدا کرنے والااللہ عَزَّ وَجَلَّ ہے۔(3)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…المعجم الاوسط، ۱/ ۴۲۶، حدیث:۱۵۶۴
2…سنن ابن ماجہ، کتاب الطب، باب ما انزل اللہ داء…الخ، ۴/ ۸۷، حدیث:۳۴۳۶
3…المعجم الکبیر، ۲۴/ ۲۵۴، حدیث:۶۴۹