کرلیا جس کی مالیت بیس ہزار درہم تھی۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اسے پکڑنے کےلئے نہ تونماز توڑی نہ ہی پریشان ہوئے۔ کچھ لوگ تسلّی دینے آئے تو فرمایا:”میں نے اسے رسی کھولتے دیکھ لیاتھا۔“عرض کی گئی:”آپ نے اسے بھگایا کیوں نہیں؟“فرمایا:”میں گھوڑے سے زیادہ پسندیدہ کام یعنی نماز میں مصروف تھا۔“ لوگ چور کے لئے بددعا کرنے لگےتو فرمایا:”اسےبددعاکے بجائے دعا دو کہ میں اپناگھوڑا اس پرصدقہ کرچکا ہوں۔“
شیطان کامدد گار:
ایک بزرگ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی کوئی چیز چوری ہوئی تو لوگوں نےان سے کہا:”آپ اس ظلم کرنے والے کے لئے بددعا کیوں نہیں کرتے؟“فرمایا:”مجھے یہ پسند نہیں کہ میں اس کےخلاف شیطان کا مددگار بنوں۔“لوگوں نے عرض کی:”اگر اس نے وہ چیز لوٹادی تو کیا کریں گے؟“فرمایا:”اسے لوں گا نہ اس کی طرف دیکھوں گاکیوں کہ میں وہ چیز اس کےلئے حلال کرچکاہوں۔“
خود اپنی جان پر ظلم کرنا:
ایک بزرگ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے لوگوں نے کہا:”آپ اپنے اوپرظلم کرنے والےکے لئے بددعا کیجئے۔“ فرمایا:”مجھ پر کسی نے ظلم نہیں کیا بلکہ اس نے خود اپنی جان پرظلم کیا ہے، اس بےچارےکا اپنی جان پر ظلم کرنا کافی نہیں ہےکہ میں بددعا کرکے نقصان میں اضافہ کروں۔“
ظالم کو برا بھلا مت کہو:
کسی بزرگ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کےسامنےایک شخص نے حجاج بن یوسف کو اس کے ظلم و ستم کی وجہ سے بُرابھلا کہا تو انہوں نے فرمایا:اسے بُرا مت کہو کیونکہ حجاج کو بُرا کہنے والے سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ اسی طرح بدلہ لے گا جس طرح لوگوں کے جان و مال کابدلہ حجاج سے لےگا۔
ایک روایت میں ہےکہ کسی بندے پر ظلم ہو اور وہ ظالم کومسلسل بُرابھلا کہتا رہے یہاں تک کہ اس کی بدزبانی ظلم کے برابر ہوجائے پھر جو اس سے بڑھ جائے وہ قرض ہے جوظالِم کا حق بن جائے گااور مظلوم سے اسے دلوایا جائے گا۔(1)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…الزھد لابن المبارک، باب ما جاء فی ا لشح، ص۲۳۷، حدیث:۶۸۱ … قوت القلوب،شرح مقام التوکل ووصف احوال المتوکلین، ۲/ ۵۶