Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
841 - 882
تمام سکے تقسیم کردیئے:
	مکہ مکرمکہ میں ایک بزرگ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ آرام فرمارہے تھے۔ ان کے قریب ایک آدمی سویا ہواتھا جس کے پاس سکّوں کی تھیلی تھی۔ جب وہ بیدار ہواتوتھیلی غائب تھی۔ اس نے ان بزرگ پر چوری کی تہمت لگادی۔ انہوں نے پوچھا:”تمہاری تھیلی میں کتنے سکے تھے؟“اس نے سکے بتائے تو وہ بزرگ اس آدمی کواپنے گھر لےگئے اور سکےاس کےحوالےکردئیے۔بعدمیں اسےمعلوم ہواکہ دوستوں نےبطور شرارت سکے چھپالیے تھے۔ وہ شخص اپنے دوستوں کے ساتھ ان بزرگ کی خدمت میں حاضر ہوااور سکے لوٹاناچاہے تو انہوں نے لینے سے انکار کردیا اور فرمایا:”اسے رکھ لو! یہ تمہارے لئے حلال ہیں کیونکہ ہم جس مال کو راہِ خدا میں دیتے ہیں اسے واپس نہیں لیتے۔“ جب ان لوگوں کا اصرار بڑھاتوبُزگ نے اپنے بیٹےکو بلایااور تھیلیوں میں رکھواکر تمام سکے تقسیم کروادئیے۔
	بزرگان دین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن کا طریقَۂ کار یہی ہوتاتھا کہ اگر کسی فقیر کو دینے کے لئے روٹی ہاتھ میں لیتے اور فقیر  چلاجاتاتو روٹی گھر واپس لےجانے کو ناپسند کرتے اور دوسرے فقیر کو دےدیتے نیزدرہم ودینار اور تمام صدقات میں یہی طریقہ اپناتے۔
چور کو بددعا نہ دی جائے:
٭…پانچواں ادب:(”مُتَوَکِّلْ“ کے لئے گھریلو سامان کے متعلق آداب میں) یہ سب سے کم درجہ ہےکہ چور کے لئے بددُعا نہ کرے۔ اگر بددعا کرے گاتوتو کل ختم ہوجائے گا۔ اس کی وجہ یہ ہےکہ اس نے  چوری ہونے کو ناپسند کیااور افسوس کیا یوں اس کازہد ختم ہوگیا اور اگر بددعا کی تو وہ ثواب بھی نہ ملے گاجو اس مصیبت پر ملتا۔ جیساکہ نبیّ پاک،صاحبِ لولاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمان عالیشان ہے:”جس نے اپنے اوپرظلم کرنے والے کو بددعادی اس نے خود بدلہ لے لیا۔“(1)
حکایت:چور پر گھوڑا صدقہ کردیا
	منقول ہے کہ حضرت سیِّدُنا رَبیع بن خَیْثَم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نماز پڑھ رہے تھے کہ کسی نے ان کاگھوڑا چوری
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…سنن الترمذی، کتاب الدعوات، باب فی دعاء النبی، ۵/ ۳۲۴، حدیث:۳۵۶۳