Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
840 - 882
 الٰہی کی خاطر وقف کردیاتھا تو اب اسےبالکل تلاش نہ کرےکہ وہ مال اس کی آخرت کے لئے ذخیرہ ہوچکا ہے۔ اگر وقف کی نیت کے بعد وہ مال مل جائے تو بہتر یہ ہےکہ اسے قبول نہ کرے اور اگر قبول کر بھی لیا تو فتوٰی کی رُو سے جائز ہےکیونکہ فقط نیت کرنےسے ملکیت ختم نہیں ہوتی، متوکلین کے نزدیک یہ عمل ناپسندیدہ ہے۔
حکایت:راہِ خدا میں وقف چیز واپس نہ لی
	منقول ہےکہ حضرت سیّدنا عبداللہبن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کی اونٹنی چوری ہوگئی اور کافی تلاش  کے باوجود جب نہ ملی تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا:”وہ راہِ خدا میں وقف ہے۔“پھر آپ مسجد میں آئے اور دو رکعت نماز پڑھی۔ اتنے میں ایک شخص آیا اور کہنے لگا:”اے ابوعبد الرحمٰن!آپ کی اونٹنی فلاں جگہ  ہے۔“ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نعلین پہن کر کھڑے ہوئے اور پھر اِستِغفارکرتے ہوئے بیٹھ گئے ۔عرض کی گئی:”کیا آپ اپنی اونٹنی لینے نہیں جائیں گے؟“فرمایا:”میں کہہ چکا ہوں کہ وہ راہِ خدا میں وقف ہے۔“
حکایت:مال راہِ خدا میں دے کر واپس لینےکانقصان
	ایک بزرگ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتےہیں کہ میں نےایک دوست کومرنےکےبعدخواب میں دیکھا تو پوچھا:”اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے تمہارے ساتھ کیا معاملہ فرمایا؟“اس نے کہا:”اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے میری بخشش فرماکر مجھے جنّت میں داخل کیااور مجھے میرے جنتی محلاَّت دکھائے۔“بزرگ فرماتے ہیں کہ وہ مجھے حسرت زدہ نظر آیا لہٰذا میں نے اس سے کہا:”اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے تمہاری بخشش فرمادی،تمہیں جنّت میں داخل کیااور تم حسرت زدہ نظر آتے ہو؟“اس نے ایک سَرْدآہ کھینچی اور کہا:”ہاں!میں قیامت تک حسرت زدہ رہوں گا۔“ وجہ پوچھنے پر اس نے بتایا کہ میرے جنتی محلاَّت مقامِ عِلِّیِّیْن میں اتنے بلند تھےکہ ان سےزیادہ بلندکوئی اور نظر نہیں آیا۔یہ دیکھ کر میں بہت خوش ہوالیکن جب ان میں داخل ہونا چاہاتو کسی نے پُکارا:”اِسے ان محلاَّت سے دور کردو، یہ اِس کےلئے نہیں ہیں، یہ اُس شخص کےلئے ہیں جو راستہ عبور کرلے۔“میں نے پوچھا:”راستہ عبور کرنےسے کیا مراد ہے؟“ آواز آئی:”تم دنیامیں کہتے تھے کہ فلاں چیزراہِ خدا میں ہے پھر واپس لےلیتے تھے، اگر تم اس راہ کو عبور کرلیتے تو ہم تمہیں یہ راہ عبور کروادیتے۔“