10دینار کا ہو تو خریدار نے اونٹ کے مالک کو 100دینار دیئے اور اگر اس مثل کو وزن اور بوجھ ہی میں مثل سمجھا جائے تو پھر ترازوکے ایک پلڑے میں 100دینار اور دوسرے میں اونٹ کو رکھا جائے تو100دینار اونٹ کے دسویں حصے کو بھی نہیں پہنچیں گے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ یہاں موازنہ اجسام کے معانی اور ارواح کا ہے، ذوات اور قد وقامت کا نہیں کیونکہ اونٹ خریدنے کا ارادہ اس کے بھاری بھرکم یا لمبے چوڑے ہونے کی وجہ سے نہیں کیا جاتا بلکہ مالیت کی وجہ سے کیا جاتا ہے۔ پس اس کی روح مالیت ہے اور جِسْم گوشت اور خون ہے جبکہ100دینار اس کی مثل دس گنا روحانی موازنے کی صورت میں بنتے ہیں نہ کہ جسمانی موازنے کی صورت میں۔ اس بات کو وہی سچا جانے گا جو سونے اور چاندی کی مالیت کی روح کو پہچانتا ہو بلکہ اگر خریدار اونٹ کے مالک کو ایسا موتی دے جس کا وزن ایک مثقال اور قیمت100دینار ہو اور وہ کہے کہ”میں نے اسے اس کی مثل دس گنا دیا“ تو وہ اس قول میں سچا ہوگا مگر اس کے اس سچ کو صرف جوہَری لوگ مانیں گے کیونکہ جوہر وموتی کی روح (کی مالیت) دیکھنے کے لئے ظاہری آنکھ کے علاوہ ایک دوسری قوت یعنی دانائی کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بچہ بلکہ دیہاتی آدمی بھی اسے جھٹلادیتا ہے اور کہتا ہے:یہ جوہر تو ایک پتھر ہے جس کا وزن ایک مثقال ہے جبکہ اونٹ کا وزن اس سے ہزار گنا زیادہ ہے ،لہٰذا خریدار کا یہ کہنا کہ”میں نے اونٹ کے مالک کواس کی مثل دس گنا دیا۔“جھوٹ ہے۔
یہاں حقیقت کو دیکھا جائے تو بچہ جھوٹا ہے اور بچے کے نزدیک یہ بات اسی وقت درست ہوسکتی ہے کہ وہ بُلُوغَت اور عَقْل کے کامِل ہونے کا اِنتظار کرے اوریہ کہ اسےجواہِر اور دیگر تمام اَموال کی اَرواح کی پہچان کروانے والاقلبی نور حاصل ہوجائے اس وقت اس پر سچائی ظاہر ہوجائے گی۔ پھر یہ کہ عارِف(یعنی پہچان رکھنے والا شخص) کوتاہ بین(کم نظر) مُقَلِّد کو یہ بات سمجھانے سے عاجز ہوتا ہے اور اس موازنہ کے تنا ظر میں یہ فرمانِ مصطفٰے بالکل سچا ہے۔ چنانچہ حضورنبیّ غیب داںصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ غیب نشان ہے:” جنت آسمانوں میں ہے۔“(1) حالانکہ آسمان بھی دنیا میں شامل ہیں تو پھر دنیا میں دنیا کی دس مثل کیسے ہوسکتی ہیں۔ اس معاملے میں جس طرح بالغ آدمی بچے کویہ موازنہ سمجھانے سے عاجز ہے اسی طرح دیہاتی کو سمجھانے سے بھی عاجز ہے۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1… شعب الایمان،باب فی ان دارالمؤمنین الجنة…الخ،۱/ ۳۳۱،حدیث:۳۶۶۔