Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
839 - 882
 سے چھٹکارا مل جائے۔کیونکہ بعض اوقات چوری کی وجہ سے چور مالدار ہوجاتاہے اور آئندہ چوری نہیں کرتا اور ”مُتَوَکِّلْ“ کے حلال کردینے کی وجہ سے حرام کھانے کے گناہ سے بھی بچ جاتا ہے۔ (۲)…چور کسی اور مسلمان پر ظلم نہ کرے اور اس کا مال دوسرے مسلمان کے مال کا مُعاوَضہ بن جائے(1)۔
	جب بھی وہ اپنے مال کے ذریعہ کسی اور کے مال کی حفاظت کی نیت کرےگا یا چور سے گنا ہ دور کرنےکی نیت کرےگا یا اس پر آسانی کی نیت کرے گاتو اس نے حدیث پاک پر عمل کرتے ہوئے مسلمانوں کے ساتھ خیرخواہی کی۔ چنانچہ مروی ہے: ’’تو اپنے بھائی کی مدد کرخواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم ۔‘‘(2) ظالم کی مددکرنا یہ ہے کہ تم اسے ظلم سے روکو اور معاف کرنابھی ظلم سے روکنااور منع کرناہے،لہٰذا یہ نیت کسی اعتبار سے نقصان دہ نہیں ہےکیونکہ اس نیت میں نہ چور کو چوری پر اُ کسانا ہے نہ  تقدیر کےفیصلہ کوتبدیل کرنا۔
	یہ نیت زہد کی وجہ سے ہی پائی جاتی ہے کیونکہ  اگر مال چوری ہوگیاتو اس نیت کی وجہ سے اسے ہر درہم کے بدلے سات سو درہم کا ثواب ملے گا اور اگر چوری نہ ہواتو پھر بھی ثواب ملے گا جیسا کہ حضورنبیّ رحمت، شفیع اُمَّتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکافرمانِ ذیشان ہے:”جو بوقْتِ اِنزال بیوی سے جدا نہ ہوا اور نطفہ ٹھہر جائے تو اتنا ثواب پائےگاجیسے ایک لڑکا پیدا ہواورزندہ رہے یہاں تک کہ جہاد کرے اور شہید ہوجائے اگرچہ اس نطفہ سے لڑکا پیدا نہ ہو۔“(3) اس کی وجہ یہ ہےکہ اس کے بَس میں ہَمْ بِسْتَرِی کرنا ہےجبکہ زندگی، رزق اور پیدائش کے معاملہ میں یہ بے بَس ہےاور اگرلڑکا پیدابھی ہوا تو بھی  اسے اپنے فعل پر ثواب ملے گاجو کہ موجود ہے، اسی طرح چوری کے معاملے میں بھی ثواب ملے گا۔
٭…چوتھا ادب:(”مُتَوَکِّلْ“ کے لئے گھریلو سامان کے متعلق ایک ادب یہ ہے کہ)جب لوٹ کر آئے اور مال چوری پائے تو غم نہ کرےبلکہ ممکن ہوتو خوش ہوکریہ کہے:”اگر چوری ہونے میں بہتری نہ ہوتی تو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  مال واپس نہ لیتا۔“ اگر مال وقف نہ کیا تھا تو اسے زیادہ تلاش نہ کرے  نہ کسی مسلمان پر بد گمانی کرےاور اگر رضائے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…چوراپنے فعل میں بہرحال گناہ گارہوگا۔(ازعلمیہ)
2…بخاری، کتاب الاکراہ، باب یمین الرجل لصاحبہ…الخ، ۴/ ۳۸۹، حدیث:۶۹۵۲
3…قوت القلوب،شرح مقام التوکل ووصف احوال المتوکلین، ۲/ ۵۴