چھٹی فصل: گھریلو سامان کے متعلق مُتَوَکِّلْ کے لئے آداب
جو ”مُتَوَکِّلْ“ اپنے گھر میں سامان رکھتاہےگھر سے نکلتے وقت درج ذیل آداب کا خیال رکھے۔
٭…پہلا ادب: دروازہ بند کردے، البتہ زیادہ حفاظتی انتظامات نہ کرےجیسےتالا لگانےکےباوجود پڑوسی کو دیکھ بھال کا کہنا یا کئی تالے لگادینا۔
سیِّدُنا مالک بن دینار رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کا توکل:
حضرت سیِّدُنا مالک بن دینار عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّار اپنے گھر کے دروازے کو تالا نہ لگاتے لیکن رسی سے مضبوط باندھ کرفرماتے:”اگر کتے نہ ہوتے تو میں رسی سے بھی نہ باندھتا۔“
٭…دوسرا ادب: گھر میں ایسا سامان نہ رکھے جو چوروں کو چوری پر آمادہ کرےکہ یہ ان کے گناہ میں پڑنے کا سبب ہوگا یاان کی دل چسپی کا باعث ہوگا۔
حضرت سیِّدُنا مغیرہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے حضرت سیِّدُنا مالک بن دینار عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّار کو ایک ڈول تحفہ میں دیا۔ آپ نےچند دن بعد وہ واپس لوٹادیا اور فرمایا:”اسے لےلو!مجھے اس کی ضرورت نہیں۔“ حضرت سیِّدُنا مغیرہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے وجہ پوچھی تو فرمایا:”شیطان وسوسہ ڈالتاہے کہ کوئی اسے چوری کرلے گا۔“
گویا آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے احتیاط کی کہ چور گناہ میں مبتلاہوگا اور میرا دل مال چوری ہوجانے کے شیطانی وسوسوں میں مبتلارہےگا۔ حضرت سیِّدُنا سلیمان دارانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی فرماتے ہیں:”یہ صوفیا کے یقین کی کمزوری ہےکیونکہ جب یہ زہد اختیار کرچکےہیں تو اب مال کی چوری پر وَاویلا کرنا کیسا؟“
٭…تیسرا ادب: بحالت مجبوری کوئی چیز چھوڑ کر جاناپڑے تو یہ نیت کرے کہ چور کومُسلَّط کرنےکا جو فیصلہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے فرمایا ہےاس پر راضی ہوں اور یوں کہے:”چور جو مال لے گا وہ اس کے لئے حلال ہے یا وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رِضا کے لئے مُباح ہےاوراگر چورفقیر ہوا تو اس پر صدقہ ہے۔“ بہتر یہ ہےکہ فقیر کی شرط نہ لگائے۔
چور کے متعلق دو نیتیں:
چور مال دار ہو یا فقیردونوں صورتوں میں ”مُتَوَکِّلْ“ دو طرح کی نیتیں کرسکتاہے:(۱)…چور کو اس گناہ