Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
837 - 882
 اب وہ کہتا ہے:”یقیناً اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے علم میں تھا کہ پہلے مال کا موجود ہونا میرے حق میں بہتر تھا اور اب نہ ہونا میرے حق میں بہتر ہے اسی لئے اس نے مجھ سے واپس لےلیا۔“
	اس طرح کے گمان سے ممکن ہےکہ بندے کا غم دور ہوجائے کیونکہ اب وہ اسباب کو اسباب سمجھ  کر خوش نہیں ہوتابلکہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کا فضل و کرم سمجھ کر خوش ہوتاہے۔ایسے شخص  کی مثال اس مریض کی طرح ہے جو رحم دل طبیب کےزیرعلاج ہو اور اس کی ہربات مانتاہو، اگر وہ دوا کھانے کاکہےتویہ  خوش ہو کر کہے:”طبیب جانتا ہے کہ یہ دوا میرے لئے فائدہ مند ہےاور میرا جسم اسے برداشت کرنے کی طاقت رکھتا ہے، اگر ایسا نہ ہوتاتو مجھے کھانے کا نہ کہتا۔“ اور اگر کوئی چیز کھانے سے منع کرے تو بھی خوش ہوکر کہے:”یہ چیز مجھے نقصان دےگی اور  موت کی طرف لے جائے گی کیونکہ اگر ایسا نہ ہوتا تو طبیب مجھے اس سے منع نہ کرتا۔“
میں نہیں جانتا کہ میرے حق میں کیا بہتر ہے؟
	جس شخص  کا یقین اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے فضل وکرم پر یوں نہ ہو جیسے مہربان باپ اوررحم دل طبیب پر ہوتا ہے تو اس کاتوکل پایاہی نہیں گیا اور جو شخص یہ بات اور اس کے طریقَۂ کار کوجان لےکہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کس طرح اپنے بندوں میں بہتری پیدا فرماتا ہے تو وہ اسباب پر خوش نہیں ہوتاکیونکہ اسے خود نہیں معلوم ہوتاکہ کون سا سبب اس کے حق میں بہتر ہے۔ جس طرح امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کافرمان ہے:”مجھے اس سے کچھ غرض نہیں کہ میری صبح مال داری میں ہو یا  غربت میں کیونکہ میں نہیں جانتا کہ ان دونوں میں سے میرے حق میں کیا بہترہے۔“اسی طرح ”مُتَوَکِّلْ“ پر لازم ہےکہ مال چوری ہونے نہ ہونے کاکچھ خیال نہ کرے کیونکہ اسے خود معلوم نہیں کہ کون سی بات دنیاوی یا اُخروی لحاظ سے بہتر ہے۔ بہت مرتبہ دنیاوی مال انسان کی ہلاکت کاسبب بن جاتاہےاور کئی مال دار مال کی وجہ سے کسی پریشانی میں مبتلا ہوکر یوں کہہ دیتے ہیں:”کاش !میں فقیر ہوتا۔“
( تُوْبُوْااِلَی اللہ		اَسْتَغْفِرُاللہ  )
(  صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیْب		صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد  )