Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
836 - 882
 کچھ نہ کچھ سامان رکھتاہے مثلاً کھانے کی پلیٹ،پانی پینے کا پیالہ، وضو کابرتن ،کھانے کے سامان  کاتھیلا ،دشمن بھگانےکےلئے لاٹھی اور دیگر گھریلو ضروری  سامان اور کبھی اس کے پاس مال آتاہے تو اسے اس لئے جمع کرکے رکھتاہےکہ کوئی ضرورت مند ملے تو اسےدےگا۔ اس  نیت سے مال جمع رکھنا توکل کے خلاف نہیں، یونہی پلیٹ،پیالہ اور سامان کا تھیلا گھر سے نکال پھینکنا توکل کی شرط نہیں بلکہ ضرورت سے زائدکھانےکی چیزیں اور سامان نکالنا شرط ہے۔
قدرت کاطریقَۂ کار:
	قدرت کا طریقہ یہ ہے کہ مسجد کے کونےمیں موجود فقیر کو بھی رزق پہنچے اگرچہ یہ نہیں کہ اُسے گھریلو ساز وسامان ہرروز یا ہرہفتہ پہنچے تو اس طریقَۂ کار سے ہٹ کر زندگی گزارنا توکل کی شرط نہیں ہوسکتی کیونکہ قدرت کےطریقَۂ کارنے دونوں معاملوں کےدرمیان فرق واضح کردیا ہے۔ اسی وجہ سے حضرت سیِّدُنا ابراہیم خوّاص رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اپنے ساتھ سفر میں  سوئی ،قینچی،ڈول اور رسی رکھا کرتے تھے نہ کہ کھانے پینے کا سامان۔
مال چوری ہونے پر رنج و غم دور کرنے کاطریقہ:
	اگر کہا جائے کہ یہ با ت سمجھ میں نہیں آتی کہ ایک شخص کا ضروری مال چوری ہوجائے اور اسےرنج  وغم نہ ہو، اگر مال پسند کے مطابق نہیں  تو کیوں سنبھال کر رکھا اور دروازہ  بند کیا اور اگرضرورت  کی وجہ سے ہی سنبھالا تھاتو اب کیوں دل دُکھی اور غمگین نہ ہوا حالانکہ اب خواہش پوری نہ ہونےمیں رُکاوٹ کھڑی ہوچکی ہے؟
	(سیِّدُنا امام غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَالِی فرماتے ہیں:) میں کہتا ہوں کہ دراصل مسلمان ”مُتَوَکِّلْ“گھریلو سامان کی حفاظت اس لئے کرتا ہے کہ یہ اس کے دین کے لئے مددگار ہوتا ہے کیونکہ وہ گمان کرتا ہے کہ سامان کا موجود ہونا اس کے لئے بہتر ہے اگر بہتر نہ ہوتا تو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اسے عطا نہ کرتا۔ تو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ پر اچھا گمان کرنے کو دلیل بناتے ہوئے سامان کی حفاظت کرتا ہے اگرچہ سامان کی حفاظت اس کے دین کے لئے مددگار ہے۔ یہ دلیل یقینی نہیں کیونکہ یہ بھی احتمال ہے کہ سامان کا چوری ہونا اس کے حق میں بھلائی ہو کہ اسے آزمائش میں مبتلا کرکے اسے زیادہ ثواب دیا جائے۔ پس جب چور مسلط کرکے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اس سے مال لےلیتا ہے تو اس کا گمان تبدیل ہوجاتا ہے کیونکہ ہرحال میں وہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے اچھا گمان کرتا ہے اور اسی پر بھروسا کرتا ہے۔