Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
835 - 882
 فرمایا ہے اس پرراضی ہواور کہے:”اے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ!اگر تقدیر میں یہ لکھاہےکہ  میرےگھر میں چوری  ہوگی تو یہ سب مال تیری ہی راہ میں ہے اور میں تیرے فیصلہ پر راضی ہوں کیونکہ مجھے نہیں معلوم کہ جو کچھ تونے  عطا کیا ہے وہ تحفہ ہےکہ توواپس نہیں لے گایاعاریت اور امانت ہے کہ تو واپس لے لے گا، مجھے یہ بھی نہیں معلوم کہ یہ سامان میرارزق ہے یا تقدیر میں اسے کسی اور کارزق ہونالکھاجاچکاہے،تیرافیصلہ جوبھی ہو میں اس پر راضی ہوں، دروازہ بند رکھنے کامقصد تیرے فیصلہ سے بچنا اور اس کی مخالفت نہیں بلکہ تیرے ہی طریقَۂ کار کے مطابق اسباب اختیار کرناہے،اے اسباب پیدا فرمانے والے!میرااعتماد صرف تیری ذات  پر ہے۔“
	جب بندے کی حالت مذکورہ کیفیت اور علم کےمطابق ہوجائے تو وہ ”مُتَوَکِّلْ“ ہےاگرچہ اونٹ باندھے، اسلحہ اٹھائے یا دروازے کوتالالگائے۔
	پھر جب لوٹ کر آئے اور گھر یلو سامان بحفاظت پائے تو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی ایک اور نعمت شمار کرے اور اگر واپس لوٹنے پر سامان چوری ہوگیا ہوتواپنے دل پر غور کرےاگر اسے راضی یا مطمئن پاتاہےاورمال چلے جانے کی وجہ یہ گمان کرے کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اسے آخرت میں زیادہ عطافرمائے گا تو اس کا توکل درست ہے اور  دعوٰی سچا ہے اور اگر دل افسُردَہ ہوجائے اگرچہ صبر کی طاقت ہوتو یہ اپنے دعوٰی میں سچا نہیں کیونکہ توکل زہد کے بعد آتا ہے اور زہد اس وقت درست ہوتاہےجب  دنیوی مال آنے پر خوشی ہو نہ جانے پر دُکھ بلکہ جانے پر خوشی اور آنے پر دکھ ہو تو یہ توکل کس طرح درست ہوسکتاہے؟البتہ مقامِ صبر پاسکتا ہے جبکہ  دُکھ چھپائےاورشِکوہ  نہ کرے نیز مال ڈھونڈنے اور تلاش کرنے میں زیادہ کوشش نہ کرے۔ اگر صبر پر بھی قادر نہ ہو کہ دل میں دکھ ہو اور زبان پر شکوہ ہونیز مال  ڈھونڈنے کی بہت زیادہ کوشش کرے تو اس چوری نے اس کی خطاؤں  میں مزید اضافہ یوں  کردیاکہ وہ اپنے تمام دعووں میں جھوٹا ہے اور توکل وزہد سے اس کا کچھ تعلق نہیں۔ ایسے شخص کو چاہئے کہ کوشش کرتارہے اور نفس کی کسی بات کو نہ سچ سمجھے نہ ہی اس  کے دھوکے کے جال میں پھنسے کیونکہ یہ ایسا دھوکےباز ہےجو اچھائی کی آڑ میں برائی کی جانب بُلاتاہے۔
ایک سُوال اور اس کا جواب:
	کوئی اگر ”مُتَوَکِّلْ“ ہےتو مال کیوں رکھتا ہےکہ چوری ہو؟جواب: توکل کرنے والا شخص اپنے  گھر میں