Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
834 - 882
 کیونکہ اس کا تعلق کرامات سے ہےجوکہ توکل میں شرط نہیں نیز اس میں ایسے راز پوشیدہ ہیں جن تک پہنچنے والاہی ان رازوں کوسمجھ پاتاہے۔
	سوال:کیا کوئی ایسی علامت ہے جس سے معلوم ہوجائے کہ کوئی  اس درجہ تک پہنچ چکا ہے؟جواب: جو شخص پہنچ گیا اسے علامت کی ضرورت نہیں۔  البتہ پہنچنے سے پہلے  کی  ایک علامت یہ ضرور ہے کہ تمہارا کتا فرمانبردار ہوجائے یعنی تمہاراغصّہ جوتمہارے ساتھ ہوتاہے تمہیں اور دوسروں کو کاٹتا رہتا ہے، جب تم اس کتے کو جوش دلاؤ اور شکار کےپیچھے لگاؤتوتمہارے ہی  اشاروں پر چلےتو سمجھ لینا کہ یہ تمہارا فرمانبردار ہوچکا ہے اور بعض اوقات اس کا درجہ اس قدر بلند ہوجاتاہے کہ  جنگل کا بادشاہ شیر بھی فرمانبردار ہوجاتا ہے۔ جنگلی کتےکےمقابلہ میں گھر کا کتااور گھر کےکتے کے مقابلہ میں باطنی کتازیادہ حق رکھتا ہےکہ اسے فرمانبرداری سکھائی جائےلہٰذا جب باطنی کتا فرمانبردار نہ ہوسکے تو ظاہری کتے کو فرمانبردار کرنےکی امید نہ رکھو۔
علم اور کیفیت کے اعتبار سے توکل:
	اگر کہا جائے کہ کوئی شخص دشمن سے بچنےکےلئے ہتھیار اٹھائے،چور سے بچنےکے لئے گھر کا دروازہ بند کرے اور جانور بھاگ جانے کے ڈرسےاسےباندھ کررکھےتواس کاتوکل علم کےاعتبارسےہوگا یا کیفیت اور عمل کے اعتبار سے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ ایسے شخص کا توکل علم اور کیفیت کے اعتبارسے ہوگا۔
	علم کے اعتبار سےتوکل یوں ہوگا کہ وہ جانتاہو چور سے حفاظت فقط دروازہ بند کرنےکی وجہ سے نہیں ہوئی بلکہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  چور کو دور کیے ہوئے ہےکیونکہ کئی دروازے ایسے ہیں جن پر تالا ہوتاہے لیکن اس کاکوئی فائدہ نہیں ہوتا،اسی طرح  کئی اونٹ بندھے ہوتے ہیں لیکن مَر جاتے ہیں یا رَسی توڑ کر بھاگ جاتے ہیں، یونہی  کئی اسلحہ اٹھانے والے قتل ہوجاتے ہیں یا شکست سے دوچار ہوجاتےہیں، لہٰذا تمہارابھروسا اسباب پیداکرنے والے پر ہو نہ کہ اسباب پر جیسا کہ پیچھےمقدمہ میں وکیل پر بھروسا کرنے کی مثال گزری ہےکہ اگر وہ شخص خود عدالت آئے اور تمام مطلوبہ کاغذات بھی لائے تو اس  کامطلب یہ ہے کہ اس کا اعتماد وکیل کی کوشش اور طاقت پر ہے نہ کہ اپنےاوپر یا  کاغذات پر۔
	کیفیت کے اعتبار سے توکل یوں ہوگاکہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے جو فیصلہ اس  کےگھر اور زندگی کے بارے میں