Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
833 - 882
اسباب اپنانے کےمتعلق چارفرامین باری تعالیٰ:
(1)…  وَخُذُوۡا حِذْرَکُمْ ؕ  (پ۵،النسآء:۱۰۲)
ترجمۂ کنز الایمان:اور اپنی پناہ لیے رہو۔
(2)…نمازِ خوف کی کیفیت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:
وَلْیَاۡخُذُوۡۤا اَسْلِحَتَہُمْ ۟  (پ۵،النسآء:۱۰۲)
ترجمۂ کنز الایمان:اور وہ اپنے ہتھیار لیے رہیں۔
(3)… وَ اَعِدُّوۡا لَہُمۡ مَّا اسْتَطَعْتُمۡ مِّنۡ قُوَّۃٍ وَّمِنۡ رِّبَاطِ الْخَیۡلِ  (پ۱۰،الانفال:۶۰)
ترجمۂ کنز الایمان:اور ان کے لئے تیار رکھو جو قوت تمہیں بن پڑے اور جتنے گھوڑے باندھ سکو۔
(4)… فَاَسْرِ بِعِبَادِیۡ لَیۡلًا (پ۲۵،الدخان:۲۳)
ترجمۂ کنز الایمان:ہم نے حکم فرمایا کہ میرے بندوں کو راتوں رات لےنکل۔
	یعنی دشمن کی نگاہ سے چُھپ کر رات  کی پناہ لیناکہ یہ بھی نقصان سے بچنے کاایک سبب ہے۔اسی طرح حضور نبیّ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے کفارکے نقصان پہنچانے سے بچنے کےلئےغارِثورمیں قیام فرمایا۔
	نقصان کا خوف دورکرنےکےلئےنماز میں ہتھیار اٹھائے رکھنایقینی نہیں بلکہ ظنی سبب ہے جبکہ سانپ، بچھو کا قتل کرنایقینی سبب ہے لیکن پیچھے بیان ہوچکا کہ ظنی اسباب یقینی کے درجہ میں ہیں۔ بہرحال اس معاملہ میں بھی ”مُتَوَکِّلْ“ کو وہمی اسباب اختیار کرنے سے بچنا ضروری ہے۔
سُوال جواب:
	سوال:ایک بزرگ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے بارے منقول ہےکہ شیر نے آپ کے کندھے پر اپناپنجہ رکھاتو آپ بالکل بھی خوفزدہ  نہ ہوئے(معلوم ہواکہ ”مُتَوَکِّلْ“ کو ان چیزوں سےنہیں ڈرناچاہئے)۔	جواب: یہ واقعہ تمہیں دھوکے میں مبتلا نہ کرےکیونکہ اس کے علاوہ بھی کئی واقعات ہیں مثلاً بعض بزرگوں نے شیرکواپنا تابع بناکر اس  پر سواری کی۔ یہ معاملہ اپنی جگہ بالکل درست ہےلیکن اس میں کسی کی پیروی نہیں کی جاسکتی