(3)… وَدَعْ اَذٰىہُمْ وَ تَوَکَّلْ عَلَی اللہِ ؕ (پ۲۲،الاحزاب:۴۸)
ترجمۂ کنز الایمان:اور ان کی ایذا پر درگزر فرماؤ اور اللہ پر بھروسہ کرو۔
(4)… فَاصْبِرْ کَمَا صَبَرَ اُولُوا الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ (پ۲۶،الاحقاف:۳۵)
ترجمۂ کنز الایمان:تو تم صبر کرو جیسا ہمت والے رسولوں نے صبر کیا۔
(5)… نِعْمَ اَجْرُ الْعٰمِلِیۡنَ ﴿٭ۖ۵۸﴾ الَّذِیۡنَ صَبَرُوۡا وَعَلٰی رَبِّہِمْ یَتَوَکَّلُوۡنَ ﴿۵۹﴾ (پ۲۱،العنکبوت:۵۸، ۵۹)
ترجمۂ کنز الایمان:کیا ہی اچھا اجر کام والوں کا وہ جنھوں نے صبر کیا اور اپنے رب ہی پر بھروسہ رکھتے ہیں۔
خوف درندوں کی جانب سے ہوتو!
صبرتوکل کی شرط اس وقت ہے جب خوف لوگوں کی جانب سےہو، اگر خوف سانپ،بچھواور درندوں کی جانب سے ہواور بندہ انہیں نہ بھگائے تو یہ توکل کے برخلاف ہے جس میں کوئی فائدہ نہیں اور کوشش کرنا یا نہ کرنا بذات خود مطلوب نہیں بلکہ مطلوب تو دینی اُمور پر مدد حاصل کرنا ہے۔
یہاں بھی اسباب کی ترتیب وہی ہے جو پہلے مقصد (یعنی فائدہ حاصل کرنے) میں تھی لہٰذا ہم اسے دوبارہ بیان نہیں کریں گے۔
مال جانے کاخوف ہوتو!
مال جانے کاخوف ہوتویقینی یاظنی اسباب اختیار کرناتوکل کے خلاف نہیں مثلاًباہر نکلتے ہوئے گھرکا دروازہ بند کرنا یا سواری کاجانور باندھناکیونکہ ان اسباب کا یقینی یا ظنی ہونا معلوم ہوچکاہے۔اسی وجہ سے جب ایک اعرابی نے اپنے اونٹ کوکھلا چھوڑکر کہا:”میں نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ پر توکل کیا۔“ تو محسن کائنات، فخر موجودات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:”اسے باندھو پھرتوکل کرو۔“(1)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…سنن الترمذی، کتاب صفة القیامة، باب۶۰، ۴/ ۲۳۲، حدیث:۲۵۲۵ … شعب الایمان للبیھقی،باب التوکل باللہ،۲/ ۸۰، حدیث:۱۲۱۲