Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
831 - 882
خوف دورکرنے والے اسباب:
	یہ تین قسم کے ہیں:(۱)…یقینی(۲)…ظنی اور(۳)…وہمی۔پہلے دونوں اختیار کرنا اور تیسرے کو چھوڑدینا توکل کے لئے شرط ہے۔وہمی اسباب سےنقصان دور کرنایوں ہی ہےجیسےبدن داغنااور دَم کروانا کہ ان چیزوں کاانتظام نقصان پہنچنے سے پہلے ہی احتیاطاًکیا جاتاہےیا کبھی نقصان پہنچنے کے بعد کیاجاتاہےحالانکہ تاجدارِ رِسالتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کےفرمان کے مطابق ”مُتَوَکِّلْ“ کے اوصاف یہ ہیں کہ وہ بدن داغنے،جھاڑ پھونک کروانےاور برےشگون  سے بچتاہو۔یہ اوصاف  نہیں کہ  وہ کسی سَرْد علاقہ میں جائے تو گرم کپڑے  نہ پہنےکیونکہ عموماً گرم کپڑے سردی سے بچاؤ کا ذریعہ ہوتے ہیں یہی حکم اس طرح کے دیگر اسباب  کاہے،البتہ کوئی  موسم سَرما میں سفر پر روانہ ہوتے وقت لہسن وغیرہ کھائےتاکہ جسم میں گرمی پیدا ہو تو بعض اوقات  اس چیز پر اعتماد اور بھروسا بڑھ جاتاہےاس وقت یہ بدن داغنے کی مثل ہوگا نہ کہ گرم کپڑے پہننے کی مثل۔
خوف انسانوں کی جانب سے ہوتو!
	بعض اوقات خوف دور کرنے والےاسباب یقینی ہونے کے باوجود اختیار نہیں کئے جاتے مثلاً:ایک شخص کو دوسرے سے تکلیف پہنچی اوروہ اس پر صبر بھی کرسکتاہے  اوراسے دور کرکےمطمئن بھی ہوسکتا ہے تو اس وقت صبر سے کام لینا توکل کی شرط ہے۔
صبر کے متعلق  پانچ فرامین باری تعالیٰ:
(1)…  فَاتَّخِذْہُ وَکِیۡلًا ﴿۹﴾ وَاصْبِرْ عَلٰی مَا یَقُوۡلُوۡنَ (پ۲۹،المزمل:۹، ۱۰)
ترجمۂ کنز الایمان:تو تم اسی کو اپنا کارساز بناؤ اور کافروں کی باتوں پر صبر فرماؤ۔
(2)… وَ لَنَصْبِرَنَّ عَلٰی مَاۤ اٰذَیۡتُمُوۡنَا ؕ وَعَلَی اللہِ فَلْیَتَوَکَّلِ الْمُتَوَکِّلُوۡنَ ﴿٪۱۲﴾ (پ۱۳،ابراھیم:۱۲)
ترجمۂ کنز الایمان:اور تم جو ہمیں ستا رہے ہو ہم ضرور اس پر صبر کریں گے اور بھروسہ کرنے والوں کو اللہ ہی پر بھروسہ چاہیے۔