انسان کو جتنی نعمتیں دنیا میں ملتی ہیں اتنی آخرت سے کم کردی جاتی ہیں۔
حکایت:تربیت کا انوکھا انداز
بندے کے دل میں مال کی محبت نہ ہواور پھر مال جمع کرے تویہ توکل کے خلاف نہیں۔ اس کی دلیل یہ واقعہ ہے۔چنانچہ حضرت سیِّدُنا حسین مَغالِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَالِی فرماتے ہیں کہ میں دن چَڑھےحضرت سیِّدُنا بشر حافی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَافِی کی خدمت میں تھا کہ ایک عمر رَسیدہ شخص آیا جس کی رنگت گندمی اور داڑھی ہلکی ہلکی تھی۔ حضرت سیِّدُنا بشر حافی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَافِی اسے دیکھ کرکھڑے ہوئےحالانکہ یہ آپ کی عادت میں شامل نہ تھا۔ پھر مجھے چند درہم دیتے ہوئے فرمایا:”بہترین قسم کاکھاناخرید لاؤ۔“حالانکہ اس سے پہلے کبھی یہ جملہ نہ کہا۔ چنانچہ میں کھانالےآیا اور آپ کے سامنے رکھ دیا۔پھر آپ نے اس شخص کے ساتھ کھانا تناول فرمایا حالانکہ ایسا کرنا بھی آپ کی عادت میں شامل نہ تھا۔ہم نے بقدرضرورت کھاناکھایالیکن پھر بھی کافی بچ گیا۔ اس شخص نے کھاناجمع کیا، کپڑے میں لپیٹا اور اُٹھاکر چلاگیا۔ میں کافی حیران ہوا کہ کھانا بغیر اجازت کیوں لےگیا؟ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:”شایدتمہیں یہ انداز پسندنہیں آیا؟“میں نے کہا: جی ہاں! وہ بقیہ کھانا بغیر اجازت لےگیا؟آپ نے فرمایا:”یہ ہمارے بھائی حضرت فتح مَوْصِلی تھے جو ہماری ملاقات کےلئے مَوْصِل سے تشریف لائے تھے اور ہمیں یہ بات سکھانا چاہتے تھے کہ جب توکل شرائط کے مطابق ہوتو مال جمع کرنے میں کوئی حرج نہیں۔“
تیسرامقصد: نقصان دہ چیز کا خوف دورکرنے والے اسباب اپنانا
یاد رکھئے ! خوف جان جانےکاہوتاہے یاکبھی مال جانے کااور توکل کی شرط یہ نہیں ہےکہ نقصان دہ چیزکو دور ہی نہ کیاجائے۔
جان جانے کاخوف ہوتو!
یہ خوف یوں ہوسکتاہےکہ ایسی جگہ سوئے جہاں درندے آزاد پھرتے ہوں یا گرنے والی دیوار یاشکستہ چھت کے نیچے سوئے یاایسی جگہ سوئے جہاں سیلابی ریلا آسکتاہوتوان سب سے بچنا ضروری ہے کیونکہ بعض اوقات بندہ بغیر کسی فائدے کے خود کوہلاکت میں ڈال دیتاہے۔