قبل سچی توبہ کرلے تو ان لوگوں سے مل جائے گا جنہوں نے کوئی گناہ نہ کیا ہوگا کیونکہ گناہ سے توبہ کرنے والا ایسا ہے جیسےاس نے کوئی گناہ ہی نہ کیا جیساکہ دُھلا ہوا کپڑا ایسا ہوتا ہے جیسے کبھی میلا ہی نہ ہوا تھا۔ اگر توبہ کرنے سے پہلے موت نے اُسے آلیا تو یہ معاملہ خطرناک ہے کیونکہ بعض اوقات گناہوں پر اصرار کی حالت میں آنے والی موت ایمان کے متزلزل ہونے کا سبب بنتی ہے۔ پس بندے کا برا خاتمہ ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے بالخصوص جبکہ اس کا ایمان تقلیدی ہو۔ کیونکہ تقلید چاہے جتنی پختہ ہو معمولی سے شک وخیال سے کمزور ہوجاتی ہے جبکہ صاحِبِ بصیرت عارِف کے حق میں برے خاتمہ کاخوف بعید ہے یعنی اس کے برے خاتمے کا خوف نہیں۔
پھر اگر یہ دونوں (گناہ پرتوبہ سے قبل) بحالتِ ایمان انتقال کرجائیں تو انہیں عذاب ہوسکتا ہے۔ البتہ! یہ ہوسکتا ہے کہ باری تعالیٰ حساب کتاب میں سختی کے علاوہ عذاب کو معاف فرمادے۔ مدت کے لحاظ سے عذاب کی زیادتی دنیامیں گناہوں پر اصرار کی مدت کے مطابق ہوگی۔ شدت کے لحاظ سے عذاب کی زیادتی گناہوں کی قباحت کے مطابق ہوگی اور عذاب کے مختلف ہونے کا معاملہ گناہوں کے مختلف ہونے کےمطابق ہوگا۔ پھر جب عذاب کی مدت ختم ہوجائے گی تو تقلیدی ایمان والے اصحابِ یمین کے دَرَجوں میں جبکہ عارِفِین اَعْلٰی عِلِّیِّیْن میں پہنچ جائیں گے۔
جہنّم سے نکلنے والے آخری شخص کا اِنعام:
حدیث شریف میں ہے:اٰخِرُ مَنْ یَّخْرُجُ مِنَ النَّارِ یُعْطٰی مِثْلَ الدُّنْیَا کُلِّھَا عَشَرَةَ اَضْعَافٍ یعنی جو شخص جہنم سے سب سے آخر میں نکلے گا اسے تمام دنیا کی مثل دس گنا دیا جائے گا۔(1)
دنیا کی مثل10گناکا مطلب:
یہ گمان نہ کرو کہ اس حدیث سے مراد جسمانی پیمائش ہے۔ جیسے ایک میل جگہ کا دو میل سے یا دس میل کا بیس میل سے مُوازَنہ کیا جاتا ہے کیونکہ ایسا سمجھنا مثال بیان کرنے کے طریقے سے لاعلمی ہے بلکہ یہ اس طرح ہے جیسے کوئی کہے:’’میں نے فلاں سے ایک اونٹ لیا اور اسے اس کی مثل دس گنا دیا۔‘‘ گویا اگر اونٹ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1… بخاری ، کتاب الرقاق، باب صفة الجنة والنار،۴/ ۲۶۴،حدیث:۶۵۷۱، بتغیر۔