اصل حکم پرعمل کرنا پسند فرماتاہےاسی طرح رخصت پرعمل کرنابھی پسند فرماتاہے۔“(1) اس حدیث پاک میں کمزور یقین والوں کے لئے تسلّی ہے تاکہ یہ کمزوری مایوسی اور ناامیدی تک نہ پہنچادےاوروہ لوگ بلند مرتبے سے خود کو عاجز جانتے ہوئے آسان نیکیاں نہ چھوڑ بیٹھیں۔ یہی وجہ ہےکہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو تمام جہانوں کے لئے رحمت بناکرمبعوث فرمایاگیاحالانکہ مخلوق کی اقسام اور درجات الگ الگ ہیں۔
اب یہ بات تم اچھی طرح سمجھ چکے ہو کہ مال جمع رکھنابعض کونقصان دیتاہے اور بعض کونہیں۔اس کی دلیل حضرت سیِّدنا ابوامامہ باہلی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی روایت ہےکہ اصحابِ صُفّہ میں سے ایک صحابی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کا انتقال ہوا اور کفن کےلئے کپڑا نہ مل سکا تو سرکارِ نامدار، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:”اس کے کپڑوں کی تلاشی لو۔“ لوگوں نے تلاشی لی تو کپڑوں کے نیچے سے دو دینار ملے۔یہ دیکھ کر حضور نبیّ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:”یہ دونوں داغ ہیں۔“(2) ان کے علاوہ بھی کئی صحابَۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان اپنے پیچھے مال چھوڑکراس دنیا سے رخصت ہوئے لیکن سرکار مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے کسی اور کے حق میں یہ جملہ ارشاد نہ فرمایا۔ ان کے حق میں یہ ارشاد فرمانا دو وجوہات کا احتمال رکھتا ہے:(۱)…یہ کہ آگ کے دو داغ مراد لئے جائیں۔ جیساکہ فرمان بارلی تعالیٰ ہے: فَتُکْوٰی بِہَا جِبَاہُہُمْ وَجُنُوۡبُہُمْ وَظُہُوۡرُہُمْ ؕ (پ۱۰،التوبة:۳۵)
ترجمۂ کنز الایمان:پھر اس سے داغیں گے ان کی پیشانیاں اور کروٹیں اور پیٹھیں۔
ایسا اس صورت میں ممکن تھا جبکہ ان میں زُہْد،توکل اور فقر وفاقہ نہ ہوتا اور ظاہری حالت اس طرح کی بناتے اور ایسا کرنا شیطانی وار ہے۔ اور (۲)…یہ احتمال بھی ہے کہ یہ بات شیطانی وار نہ ہو(یہاں یہی حالت مراد ہے) اب حدیث پاک کی وضاحت یوں ہوگی کہ جس طرح چہرے پردو داغ ہوں تو حسن و جمال مَانْد پڑجاتا ہے اسی طرح ان دو دیناروں کی وجہ سے وہ توکل کے درجَۂ کمال کو پہنچ نہ سکےاور یہ بات شیطانی وار نہیں ہےمگر انسان اپنے پیچھے جو مال چھوڑ کرجاتاہے وہ اس کے اُخروی درجات میں نقصان کاسبب بنتاہےکیونکہ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…صحیح ابن حبان، کتاب البر والصلة، باب ما جاء فی الطاعات وثوابھا، ۱/ ۲۸۴، حدیث:۳۵۵
2…المسند للامام احمد بن حنبل، حدیث ابی امامة الباھلی، ۸/ ۲۷۷، حدیث:۲۲۲۳۶