Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
828 - 882
	احادیث مبارکہ سے ثابت ہے کہ سرکارِ مدینہ، قرارِ قلب وسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنے اہل وعیال کےلئے ایک سال کی خوراک کاانتظام فرمایا(1) جبکہ حضرت سیِّدَتُنا اُمِّ اَیمن رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کو دوسرے دن کے لئے کچھ باقی رکھنے سے منع فرمایا(2) اور جب حضرت سیِّدُنا بلال رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے روٹی کا ٹکڑا افطاری کے لئے بچا رکھا تو ارشاد فرمایا:”اے بلال!اسے خرچ کر اور اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی جانب سے کمی کا خوف نہ کر۔“(3) ایک موقع پر ارشاد فرمایا:”جب تم سے کچھ مانگاجائے تو منع نہ کرواور جب کچھ دیاجائے تو محفوظ نہ کرو۔“(4)
	ان فرامین پرعمل کرنے ہی میں سیِّدُالمتوکلین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی پیروی ہےکیونکہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی امید اس قدر کم ہوتی کہ جب طبعی حاجت سے فراغت پاتے توپانی قریب ہونے کے باوجود تیمم کرتے اور ارشاد فرماتے:”میں پانی تک پہنچنے کے امید نہیں رکھتا۔“(5)
	اگر نورکے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مال جمع کیے رکھتے توبھی  توکل میں کوئی فرق نہ آتا کیونکہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مال پر بھروسا کبھی نہیں کیابلکہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مال جمع کرنے کو ترک کیا  تاکہ مضبوط یقین والے اس سے توکل کے آداب سیکھیں حالانکہ اُمتی  کے مضبوط تَرین یقین کو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے یقین سے ذرّہ برابر نسبت نہیں۔
ایک وسوسے کا علاج:
	سرکارِ مدینہ، قرارِ قلب وسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کاسال بھرکی خوراک  جمع رکھنے سے یہ مراد نہیں کہ مَعَاذَ اللہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کایااہل بیت حضرات کا یقین کمزور تھا بلکہ یہ تعلیم اُمت کے لئے تھا تاکہ کمزور یقین والوں کےلئے ایسا کرنا سنّت ہوجائے۔حدیث پاک میں ہے :”اللہ عَزَّ  وَجَلَّ جس طرح
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…بخاری، کتاب النفقات، باب حبس نفقة الرجل قوت سنة علی اھلہ، ۴/ ۵۱۳، حدیث:۵۳۵۷
2…مسند البزار، مسند سفینة، ۹/ ۲۸۷، حدیث:۳۸۴۱،’’ام ایمن‘‘ بدلہ ’’سفینة‘‘
3…مسند البزار، مسند عبداللہ بن مسعود، ۵/ ۳۴۸، حدیث:۱۹۷۸،بتغیرقلیل
4…المعجم الکبیر، ۱/ ۳۴۱، حدیث:۱۰۲۱
5…المسند للامام احمد بن حنبل، مسند عبد اللہ بن العباس، ۱/ ۶۱۸، حدیث:۲۶۱۴