اس کا دل اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی جانب متوجّہ رہے۔
مُتَوَکِّل کا یقین کمزور ہوتو!
اگر”مُتَوَکِّلْ“ کا دل بے چین ہو یا ذکر وفکر اورعبادت میں یکسوئی نہ مل سکے تواس کے لئے مال محفوظ کرنا ہی بہتر ہے بلکہ اگر اس کے پاس کچھ جائیداد ہو جس کی آمدنی اس کی ضرورت پوری کرےاوردل کی بےچینی ختم کرےتویہ زیادہ بہتر ہےکیونکہ اصل مقصود دل کی اصلاح ہےتاکہ وہ ذکر الٰہی کے لئے فارغ رہے۔بعض لوگ مال موجودہونے کی وجہ سے غافل رہتے ہیں توبعض نہ ہونے کی وجہ سے غافل ہوتے ہیں کیونکہ ہر وہ کام منع ہے جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے غافل کرےورنہ بذات خود دنیابری نہیں،اس کا ہونا نہ ہونادونوں برابرہیں۔ اسی وجہ سےحضورنبیّ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہر قسم کی مخلوق کے لئے احکامِ شریعت لے کر آئے جن میں تاجر، ہنرمند اور ہر قسم کے پیشہ وَر افراد شامل ہیں۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے کسی تاجر کو تجارت چھوڑنے کا حکم دیانہ کسی ہنرمند کوہنر چھوڑنے کافرمایااور ان کاموں سے کنارہ کشی کرنے والے کوان کاموں میں مصروف بھی نہ کیابلکہ سب کومعبود برحق عَزَّ وَجَلَّ کی جانب بلایااور رہنمائی فرمائی کہ کامیابی اور نجات اسی میں ہےکہ بندہ دنیا سے بے رغبت ہوکر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی جانب متوجّہ رہے اور د ل کو اس کی یا د سے آباد رکھے لہٰذا کمزور یقین والے کے لئے یہی بہترہےکہ وہ بقدرضرورت مال جمع رکھے جس طرح مضبوط یقین والے کے لئے مال جمع نہ کرنا بہترہے۔
یہ تمام گفتگو فرد واحد کے اعتبار سے تھی۔
عِیال دار کتنا مال جمع رکھے؟
جہاں تک عیال دارکی بات ہے تووہ اپنے بیوی بچوں کے کمزور ہونے اوران کی دلی تسکین کی وجہ سے سال بھر کا مال جمع کرنے کے باوجود متوکلین کی فہرست میں شامل رہے گااوراگر سال بھر سے زائد کا مال جمع کرکے رکھے گا تو ”مُتَوَکِّلْ“ نہ رہے گاکیونکہ اسباب بار بار آتے ہیں لہٰذا سال بھر سےزائد مدت کے لئے مال جمع کرنا اس کے کمزور یقین کی دلیل ہےجوکہ توکل کے خلاف ہےکیونکہ ”مُتَوَکِّلْ“ وہی ہوتاہے جس کا یقین مضبوط ہو اور دل اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے فضل وکرم پر مطمئن ہونیز اعتماد ظاہری اسباب کے بجائے مخفی اسباب پر ہو۔