Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
826 - 882
 امید دو مہینے گزارنے پرمشتمل ہواس کادرجہ ایک مہینہ والےکےبرابرہےنہ تین مہینےوالےکے برابربلکہ دونوں کے درمیان ہے۔
مال جتنا کم فضیلت اتنی ہی زیادہ:
	مال محفوظ کرنے کی ممانعت نہیں ہے لیکن  زندگی کی امیدکم سے کم ہونی چاہئے۔ افضل یہی ہے کہ مال بالکل جمع نہ کرےاگرچہ کمزوریقین والا ہوکیونکہ جتنا مال کم ہوگا اتنی ہی فضیلت  زیادہ  ہوگی۔
ایک عادت مرتبے میں کمی کا باعث:
	مروی ہے کہ ایک شخص کا انتقال ہوا تو رسولِ اَکرم،شاہِ بنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت سیِّدُنا علیُّ المرتضٰی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم اور حضرت سیِّدُنا اسامہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو غسل دینے کا حکم ارشاد فرمایا۔ دونوں حضرات نے اسے غسل دیااور اسی کی چادر سے کفن پہنایا۔ جب اسے دفناچکے تو حضورنبیّ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:”اسے قیامت کے دن یوں اُٹھایاجائے گاکہ اس کاچہرہ چودہویں کے چاند کی طرح چمکتاہوگا، اگر اس میں ایک عادت نہ ہوتی تو سورج کی طرح روشن ہوتا۔“صحابَۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے عرض کی:”یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! وہ عادت  کون سی تھی؟“ ارشاد فرمایا:”یہ شخص بہت زیادہ روزے رکھنے والا، عبادت گزار اور ذکر الٰہی کرنے والاتھامگر جب سردی آتی تو گرمیوں کے کپڑے (اگلےگرم موسم کے لئے) جمع کرلیتا اور جب گرمی آتی تو سردیوں  کے کپڑے (اگلےسرد موسم کے لئے) جمع کرتا۔“ پھر فرمایا:”جو چیزتمہیں سب سے کم دی  گئی ہے وہ یقین اور قوَّتِ برداشت ہے۔“(1)
ضروری چیزیں توکل کے خلاف نہیں:
	پیالہ،دسترخوان  اوردیگر ضروری چیزوں کی موجودگی توکل کے خلاف نہیں کیونکہ ان سے توکل کے کسی درجہ کو نقصان نہیں پہنچتااور”مُتَوَکِّلْ“ کو گرمیوں میں سردیوں کے کپڑے محفوظ کرنے  کی ضرورت نہیں لیکن یہ حکم اس  کے لئے ہےجو مال محفوظ نہ ہونے پر نہ بے چین ہونہ لوگوں کے مال کا انتظار کرے بلکہ 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…قوت القلوب،شرح مقام التوکل، ۲/ ۳۲