ابتدائی درجہ پر فائزمتوکلین کواصحابِ یمینکہاجاتا ہے،پھر ان میں سے ہر ایک کے کئی درجات ہیں اصحابِ یمین کا بلند تَرین درجہ سابقین کے سب سے نچلے درجہ سے ملاہواہے،لہٰذا مال کی مقدارمُقَرَّر کی ہی نہیں جاسکتی بلکہ تحقیق یہی ہےکہ توکل اس وقت کامل ہوتاہےجب مال محفوظ نہ کرنے کے ساتھ ساتھ زندگی کی امید بھی کم ہو، البتہ زندگی کی امیدبالکل ختم ہونے کوکامل توکل کی شرط قرار دینا ناممکن ہےاگرچہ لمحہ بھر کے لئے شرط ہو کیونکہ اس کاوجود پایا ہی نہیں جاسکتا۔
زندگی کی امید کاکم تَر اور انتہائی درجہ:
زندگی کی امید کم بھی ہوتی ہےاور زیادہ بھی،کم تَر درجہ ایک دن یاچند گھنٹے گزارنے کی امید رکھناہے اور انتہائی درجہ طویل عمر گزارنے کاتصور کرناہے۔ ان دونوں کے درمیان بے شمار درجات ہیں۔ ایک مہینہ سے زیادہ کی امید رکھنےوالاسال بھر کی امید رکھنے والے سے زیادہ بہتر ہے۔حضرت سیِّدُنا موسٰیکَلِیمُ اللہ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے(واقعہ کوہ طورمیں) چالیس ایّام کو دلیل بناکر امیدکی کم از کم مدت چالیس دن مقرّر کرنا درست نہیں کیونکہ اس واقعہ کا اصل مقصدکم مدت بیان کرنانہیں بلکہ اس وعدہ کی مدت بیان کرنا تھاجس کے مستحق حضرت سیِّدُناموسٰی عَلَیْہِ السَّلَام چالیس دن بعد ٹھہرتے۔یہ ایک راز ہے نیز اس طرح کے اور معاملات جن میں مدت مُقَرَّر کی جاتی ہے ا ن میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی عادت کریمہ یہی ہے جیسا کہ حدیث پاک میں ہے:”اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے حضرت آدم عَلَیْہِ السَّلَام کاخمیراپنے دسْتِ قدرت سے40دن میں تیار فرمایا۔“(1) کیونکہ خمیر کے مستحق ہونے کی مدت چالیس دن ہی رکھی گئی تھی۔
سال سےکم یا زائدعرصہ مال جمع رکھنے والا:
جو شخص سال بھر سے زائد عرصہ کے لئے مال جمع رکھے وہ کمزور یقین والااور ظاہری اسباب کی طرف مائل ہے۔ ایسا شخص ”مُتَوَکِّلْ“ نہیں ہوسکتانیزاسے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کےبنائے ہوئے مخفی اسباب کے نظام پر اعتماد نہیں ہےکیونکہ پیداوار اور آمدنی کے ذرائع باربار آتے ہیں۔
جو سال بھر سے کم عرصہ کے لئے مال جمع رکھے اس کااپنی امید کے مطابق ایک درجہ ہےجبکہ جس کی
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…الطبقات الکبری لابن سعد، ذکر من ولد رسول اللہ من الانبیاء، ۱/ ۲۴