مال محفوظ کرنے والے کی تین حالتیں:
٭…پہلی حالت: فِی الْوَقْت بَقَدرِحاجت مال لے لے یعنی بھوکا ہے تو کھانا کھا لے،بَرہنہ ہے توکپڑا پہن لے اور مکان کی ضرورت ہے تو چھوٹا سا مکان لے لے اور اسی وقت باقی مال صدقہ کردے اور اپنے لئے کچھ نہ رکھے۔ ایسا شخص یقیناً توکل کے تقاضوں کوپورا کرنے والاہے جو کہ بلند درجہ ہے، البتہ اچھی نیّت سے مال محفوظ کرنا چاہے توکرسکتاہے مثلاً کسی ضرورت مند کی ضرورت پوری کرنے کی نیّت سے بقدر ضرورت مال محفوظ کرنا۔
٭…دوسری حالت: یہ حالت پہلی کے بر خلاف ہےکہ اس میں بندہ ”مُتَوَکِّلْ“ نہیں رہتا یعنی ایک سال یا اس سے بھی زیادہ عرصہ کے لئے مال محفوظ کرنا۔ ایسا شخص ہرگز ”مُتَوَکِّلْ“ نہیں ہوسکتا۔کسی دانا کا قول ہے کہ ”تین قسم کی مخلوق مال جمع رکھتی ہےچوہا،چیونٹی اورانسان۔“(1)
٭…تیسری حالت: چالیس دن یا کم دنوں کےلئے مال محفوظ کرنا۔ایسے شخص کے بارے میں اختلاف ہے کہ کل بروز قیامت متوکلین کے درجہ پر فائزہوگا یانہیں۔حضرت سیِّدُناسہل بن عبداللہتُستری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کی رائے کے مطابق ایسا شخص ”مُتَوَکِّلْ“ نہیں ہےاور حضرت سیِّدُنا ابراہیم خوّاص رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی رائے کے مطابق اگر چالیس دن تک کے لئے مال محفوظ رکھتاہےتو ”مُتَوَکِّلْ“ ہےاوراگر اس سے زیادہ دن کے لئے محفوظ رکھتا ہے تو ”مُتَوَکِّلْ“ نہیں۔ جبکہ حضرت سیِّدُنا ابوطالب مکی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں:”40 سے زیادہ دن کامال محفوظ کرنے والا بھی مُتَوَکِّلْ ہے۔“(2)
معلوم ہواکہ مال محفوظ كرناجائز ہےلیکن اس اختلاف سے یہ فائدہ حاصل ہواکہ کوئی شخص مال محفوظ کرنے کو توکل کے خلاف سمجھے تو اسے غلط نہیں کہاجائے گا۔
جمعِ مال کی مقدار مقرّر نہیں:
مال کی مقدار مقرّر نہیں کی جاسکتی کیونکہ ہربندے کا ثواب اس کے ایمانی رُتبہ کے اعتبار سے ہوتاہے اور مراتب کئی قسم کےہیں اور ہررُتبہ کی ابتدا اور انتہا ہے نیزانتہائی درجہ پر فائزمتوکلین کوسابقین اور
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…عیون الاخبار لابن قتیبة الدینوری، کتاب الطبائع، الحشرات، ۲/ ۱۱۵
2…قوت القلوب،شرح مقام التوکل ، ۲/ ۳۱