Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
823 - 882
سخت بھوک برداشت کریں گے،شایدہم ناراض ہوئے بغیررات گزار لیں یوں ہمیں بادشاہ کی ہم نشینی ووزارت کا عہدہ مل جائے۔ وہ اس میں کامیاب نہ ہوسکے کیونکہ غلاموں نے انہیں کونےکُھدروں سے ڈھونڈھ نکال کر ایک ایک روٹی دے دی۔
	روٹیاں دینے کا سلسلہ اسی طرح جاری تھا کہ ایک دن اتفاقاً تین آدمی کسی کونے میں جاچھپےاوریوں غلاموں کی نظر ان پر نہ پڑی اور نہ ہی انہیں  مزیدڈھونڈ سکے۔ تینوں نے سخت بھوک میں رات گزاری۔ دو آدمیوں نے کہا:کاش کوئی غلام ہماری جانب آجاتااور روٹی دےجاتاکہ ہم میں مزید برداشت  کی طاقت نہ رہی جبکہ تیسرا آدمی صبح تک خاموش رہا اور یوں اسے ہم نشینی اور وزارت کا عہدہ مل گیا۔ یہ مخلوق کی مثال ہے جبکہ میدان دنیوی زندگی ہے،میدان کے دروازے سے مراد موت ہے جبکہ نامعلوم مدت قیامت کا دن ہے اور وزارت کا وعدہ  شہادت کادرجہ ہے کہ جب ”مُتَوَکِّلْ“ رضائے الٰہی پر راضی ہوکر بھوک سے مرجائے تو بغیر کسی تاخیر کےاس درجہ پر فائز ہوجاتا ہے کیونکہ شہدا زندہ ہوتےہیں اورانہیں رزق دیا جاتاہے۔ غلاموں سے اُلجھنے والےظاہری اسباب پر اعتماد کرنے والے ہیں جبکہ پابند غلاموں  سے مراد اسباب ہیں۔ اسی طرح غلاموں کی نظروں کے سامنے بیٹھنے والے شہر کی مسجدوں اور خانقاہوں میں بیٹھنے والے ہیں اور کونوں میں چھپنے والے جنگلوں میں رہ کرتوکل اختیار کرنے والے ہیں  کہ اسباب انہیں ڈھونڈتے ہیں اوررزق ان کے پاس آتا ہے اور اگر کسی کے پاس نہ پہنچ سکا اور وہ رضائے الٰہی پر راضی ہوکر بھوکا مرجائےتو  شہادت اور قُربِ الٰہی پالیتا ہے۔
	مخلوق انہیں چار قسموں میں تقسیم ہے،شاید نوّےفیصد لوگ ظاہری اسباب پر اعتماد کرتے ہیں جبکہ باقی دس میں سے سات فیصدلوگ شہر میں زندگی گزار کراپنی موجودگی اور شہرت کے سبب سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور تین فیصدجنگلوں میں گھومتےہیں جن میں سےدوصبرنہیں کرپاتےاورایک فیصدلوگ ہی قرب الٰہی کے درجہ پر فائز ہوتےہیں۔یہ اعداد وشمار پچھلے زمانے کا ہےجبکہ فی زمانہ اسباب کو چھوڑنے والاشاید دس ہزار میں ایک بھی نہ نکلے۔
دوسرا مقصد:				فوائد کی حفاظت کرنا
	جس شخص کو کام کاج کرکے یا مانگ کریا وراثت سے یا کسی اور طریقہ سےمال ملےاور وہ اسے محفوظ  کرنا چاہے تو اس کی تین حالتیں ہوسکتی ہیں۔