Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
822 - 882
 روٹی اور اس بات کا خیال رکھنا کہ  کوئی محروم نہ رہےاور ایک شخص کو اعلان کرنے کاحکم دے کہ جب غلام باہر آئیں تو سب لوگ اپنی جگہ ٹھہرے رہیں،غلاموں پر جھپٹا نہ ماریں بلکہ ہر ایک اپنی جگہ پُرسکون رہےکیونکہ غلام حکم کے پابند ہیں اورانہیں یہی حکم دیاگیاہےکہ کھانا سب تک پہنچاناہےاگر کسی نے غلاموں پر جھپٹا مارااور انہیں تکلیف دی اور دوروٹیاں چھینیں تو جب وہ میدان  کے دروازہ سے باہر جائے گا میں اس کے پیچھے ایک غلام دوڑاؤں گا جو اسے پکڑ لائے گا، پھر میں اسے اتنی  مدت تک سزا دوں گاجو مجھے معلوم ہےلیکن تمہیں معلوم نہیں اور جس نے غلاموں کوتکلیف نہ دی بلکہ پُر سکون رہااور غلام کی طرف سے ملنے والی ایک ہی روٹی پر قناعت کی تو میں اسےاس دن عمدہ لباس پہناؤں گاجس دن پہلےکو سزا دوں گااورجواپنی جگہ ٹھہرا رہامگراس نے دو روٹیاں لیں اسے سزا ملےگی نہ انعام ملےگااوراگر کسی کومیرے غلاموں سے کچھ نہ ملااور وہ غلاموں پر ناراض ہوئے بغیررات بھر بھوکارہااور خواہش نہ کی کہ ”کاش !کوئی  غلام مجھے روٹی دے جاتا“ تومیں ایسے شخص کو کل اپنا وزیر بناؤں گااور سلطنت کے معاملات اس کے سپرد کروں گا۔
	اب مانگنے والوں کی چارقسمیں ہوگئیں۔
٭…ایک قسم: وہ جن پر بھوک نے غلبہ کیا،انہوں نے ڈرائی جانے والی سزا کی جانب توجّہ نہ کی اور کہا:کل تو بہت دور ہے،ابھی ہم بھوکے ہیں۔ وہ لوگ غلاموں پر جھپٹے اور انہیں تکلیف دی پھر ان سے دو دو روٹیاں چھین لیں۔ جب انہیں حکم کے مطابق سزا ملی تو اپنی حرکت پر نادِم ہوئے لیکن یہ ندامت  انہیں سزا سے نہ بچا سکی۔
٭…دوسری قسم: وہ جنہوں نے سزا کے خوف  سے غلاموں سےالجھناپسند نہ کیالیکن بھوک کے غلبہ کی وجہ سے دو دو روٹیاں لے لیں۔ انہیں سزا نہ ملی لیکن عمدہ لباس بھی نہ مل سکا۔
٭…تیسری قسم: وہ جنہوں نے کہا:ہم ایسی جگہ بیٹھیں گے جوغلاموں کونظر آئے تاکہ وہ ہمیں  نظرانداز نہ کریں، اگروہ ایک روٹی دیں گے تو ہم اسی پرقناعت کریں گے کہ شایدہمیں عمدہ لباس مل جائے۔ وہ عمدہ لباس حاصل کرنے میں کامیاب ہوہی گئے۔
٭…چوتھی قسم: وہ لوگ جو میدان کے کونوں میں بِکھر گئے اور غلاموں کی نظروں سے چھپ کر کہا:اگر غلاموں نے ہمیں ڈھونڈ کرایک روٹی دی تو ہم اس پر قناعت کریں گے اور اگر ہمیں نظرانداز کردیاتو رات بھر