Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
821 - 882
 قناعت گزار عالِم کے پاس رزق آتاہےاوراگر اس کے پاس کثیر لوگ ہوں توان سب کارزق بھی آتاہے۔
عالِم کا انداز زندگی کیسا ہو؟
	اگر عالِم کا ارادہ یہ ہوکہ لوگوں سے نہیں لےگا بلکہ خودکماکرکھائےگاتو یہ اس عالِم باعمل کاطریقہ ہے جس نےظاہری علم پر عمل کیالیکن راہِ سلوک پر نہ چلا کیونکہ کام کاج کرناراہِ سلوک پر چلنے میں رُکاوَٹ ہے لہٰذا ایسے عالم کے لئے زیادہ بہتر یہی ہےکہ راہِ سلوک پر چلےاوراس شخص سے لے جو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کا قرب حاصل کرنا چاہتا ہوکیونکہ (اس میں دو فائدے ہیں)رضائے الٰہی کے لئے اپنے آپ کوفارغ رکھنااور ثواب  کے طلبگار کی مدد کرنا۔
ہر ایک کو رزق اسباب کے مطابق نہیں ملتا:
	جو اللہ عَزَّ  وَجَلَّکے قائم کردہ طریقہ کار کی جانب دیکھتاہےوہ جان جاتاہے کہ ہر ایک کو رزق اسباب کے مطابق نہیں ملتا۔ چنانچہ ایک بادشاہ نے کسی دانِشور سے پوچھا:”کیا وجہ ہےکہ بے وقوف رزق پالیتاہےجبکہ عقل مندمحروم ہوجاتاہے۔“دانشور نے جواب دیا:”اس کامطلب ہےکہ کوئی نہ کوئی خالق موجود ہےکیونکہ اگر ہرعقل مندکو رزق ملتا اور ہربے وقوف محروم رہتا تو لوگ یہ سمجھتے کہ عقل ہی رزق دیتی ہے،پھرجب لوگوں نے برخلاف دیکھا تو جان گئےکہ رزق دینے والاکوئی اورہی  ہے،لہٰذا انہوں نے ظاہری اسباب پر بھروسا نہ رکھا۔“
کسی شاعر نے کیا  خوب  کہاہے:
وَلَوْ کَانَتِ الْاَرْزَاقُ تَجْرِیْ عَلٰی الْحِجَا	ھَلَـکْنَ اِذَنْ مِنْ جَھْلِھِنَّ الْبَھَائِمُ
	ترجمہ:اگر رزق عقل کے حساب سے ملتاتوجانور بے وقوفی کے سبب مرجاتے۔
پانچویں فصل:		ُتَوَکِّل اوراسباب کے تعلق کی مثال
	مخلوق کی مثال بارگاہِ الٰہی میں یوں ہےجیسےبھوکےلوگوں کاایک گروہ شاہی محل کےباہرمیدان میں کھڑا ہو پھربادشاہ اپنے کئی غلاموں کو روٹیاں دے کر بھیجے اور حکم دے کہ کسی کودو روٹیاں دینا اور کسی کو ایک