Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
820 - 882
	(۲)…اور وہ تنگدستی میں ہم سے یوں  صبر مانگتاہے گویا ہم اسے نہیں دیکھتے اوروہ ہمیں نہیں دیکھتا۔
	تم سمجھ چکے ہوکہ جس کانفس مغلوب ہوجائے تو اس کادل مضبوط ہوجاتاہےاورجس کاباطن بُزدلی کی وجہ سے کمزور نہ ہواس کا ایمان نِظامِ الٰہی پرمضبوط ہوجاتاہےاورپھرنفس ہمیشہ مطمئن رہتاہےاور اللہ عَزَّ  وَجَلَّ پر بھروسا کرتاہےکہ انتہائی بری حالت یہی ہوسکتی ہےکہ بھوک کی حالت میں موت آجائےگی جبکہ موت تو یقیناً آکر رہے گی جس طرح مطمئن نہ ہونے والے شخص کوبھی آکررہتی ہے۔
کامل توکل:
	معلوم ہواکہ توکل یوں کامل ہوگاکہ ایک جانب سے قناعَت ہواور دوسری جانب سےرزق کاوعدہ پورا ہو اور یقیناًوہی ذات سچی ہےجس نے اسباب مہیّا کیےاور ان اسباب پرقناعت والوں کے رزق کا ذمہ لیا ہے لہٰذا تم بھی قناعت کرواورتجربہ کرکے دیکھ لوکہ اس کا وعدہ یقیناً سچا ہےاوروہ ایسے انجان راستوں سے تم تک رزق پہنچائے گاجن تک تمہارے ذہنوں کی رسائی نہ ہوگی نیزتوکل یوں کامل ہوگاکہ نظراسباب کی جانب  نہ ہوبلکہ اسباب پیدا کرنے والے کی جانب ہوجس طرح تمہاری نظر کاتب کےقلم پرنہیں بلکہ اس کے دل پر ہوتی ہے کیونکہ یہی دل قلم کی حرکت کا سبب ہے۔
توکل کی شرط:
	سب سے پہلا محرِّک (حرکت دینے والا)اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ہے،لہٰذا لازم ہے کہ نظراسی پررہےیہ اس مُتَوَکِّلْ کےلئے شرط ہےجو بغیرزادِراہ جنگلوں میں وقت گزارےیاشہر میں گمنامی کی زندگی بسر کرے جبکہ وہ شخص جس کا علم وعبادت مشہور ہو(اس کے لئے شرط یہ ہےکہ)چوبیس گھنٹوں میں ایک مرتبہ کھانے پر قناعت کرےاگرچہ لذیذ نہ ہواوردیندار لوگوں کی طرح موٹا لباس پہنےپھر اس کے پاس رزق ہمیشہ آئے گا وہاں سے جہاں گمان ہواور وہاں سے بھی جہاں گمان نہ ہوبلکہ کئی گنا آئےگالہٰذا ایسے شخص کا توکل نہ کرنااور رزق کے لئے فکر مند رہناانتہائی کمزوری اور کوتاہی ہےکیونکہ اس کی شہرت ایک ایسا ظاہری سبب ہےجو شہر میں گمنام شخص کےکام کاج کرنے سے بھی زیادہ رزق لے کر آنے کامضبوط ذریعہ ہےلہٰذا دیندار لوگوں کا رزق کے بارے میں فکرمند رہنابُراہےاورعُلَماکے لئے زیادہ بُراہےکیونکہ ان کے توکل کی شرط قناعت کرنا ہے اور