Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
82 - 882
٭…تقلیدی ایمان:جیساکہ عوام کا ایمان ہوتا ہے۔ وہ جو بھی سنتے ہیں اس کی تصدیق کرتے اور اس پرقائم رہتے ہیں۔
٭…کشفی ایمان:یہ وہ  ایمان ہے جو نورِ الٰہی کے ذریعے سینہ کھل جانے کے سبب حاصل ہوتا ہے یہاں تک کہ سارے موجودات اپنی حقیقت کے ساتھ مُنکَشِف ہوجاتے ہیں پھر یہ واضح ہوجاتا ہے کہ ہرموجود کا لوٹنا ذاتِ باری تعالیٰ کی طرف ہے کیونکہ حقیقی وجود تو صرف اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اور اس کی صفات وافعال کا ہے۔
کشفی ایمان والے:
	یہی وہ لوگ ہیں جو جنتُ الفردوس میں مقرَّبین بارگاہ ہوں گے  اور ملاء اعلیٰ(بُلند رُتبہ فَرشتوں) سے انتہائی قریب ہوں گے۔ ان کی بھی کئی اقسام ہیں: ان میں سے بعض ”سَابِقُوْن“ ہیں اور بعض ان سے نچلے درجے میں ہیں۔ ان کے  دَرَجات میں تفاوُت وفَرق معرفت الٰہی میں ان کے تفاوُت وفَرق کے اعتبار سے ہے۔ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی معرفت کے معاملے میں عارِفِین کے درجات شمار سے باہر ہیں اور جلالِ باری تعالیٰ کی حقیقت کا ادراک ناممکن ہے کیونکہ معرفت کا سمندر ساحل اور گہرائی سے آزاد ہوتا ہے، اس میں غوطہ لگانے والے اپنی اپنی قوت اور جتنا اَزَل میں مُقَدَّر ہوچُکا ہے اس کے مطابِق غوطہ لگاتے ہیں ،لہٰذا جس طرح اللہ عَزَّ  وَجَلَّ تک پہنچنے والے راستے کی منزلیں بےانتہا ہیں اسی طرح اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے راستے پر چلنے والوں کے درجات بھی بےشمار ہیں۔
تقلیدی ایمان والے:
	تقلیدی ایمان والے مومن اصحابِ یمین میں سے ہوں گے اور ان کا دَرَجہ مُقَرَّبِیْن کے دَرَجہ سے کم ہوگا۔ ان کے بھی کئی درجات ہیں: اصحابِ یمین کا سب سے اعلیٰ درجہ مُقَرَّبِین کے ادنیٰ درجہ کے قریب ہوگا۔ یہ ان کا حال ہوگا جنہوں نے تمام کبیرہ گناہوں سے اجتناب کیا ہوگا اور تمام فرائض ادا کیے ہوں گے یعنی ارکانِ اسلام پر قائم رہے ہوں گے۔ ارکانِ اسلام یہ ہیں:(۱)…زبان سے کلمۂ شہادت کی گواہی دینا (۲)…نماز قائم کرنا (۳)…زکوٰۃ ادا کرنا (۴)…رمضان کے روزے رکھنا اور (۵)…حج ادا کرنا۔
موت سے قبل توبہ کرنے اور نہ کرنے والا:
	وہ شخص جس نے ایک یا زیادہ کبیرہ گناہوں کا ارتکاب کیا یا بعض ارکانِ اسلام کو ترک کیا وہ اگر موت سے