اگر تم تقوٰی و توکل اختیار کرلوگےتوتَجْرِبہ سے دیکھ لوگے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا مذکورہ فرمان کن لوگوں پر صادق آتاہےکہ اس نےمُرغ مسلَّم اور لذیذکھانےکِھلانے کا ذمہ نہیں لیابلکہ اپنے ذِمَّۂ کَرَم پر فقط اتنا رزق لیا ہے جس سے زندگی باقی رہ سکےاوراتنا رزق ہر اس شخص کوبھی مل کر رہےگا جواس کی عبادت میں مشغول رہے اور اس کے ذمّہ کرم پر بھروسا کرےکیونکہ نظامِ الٰہی میں رزق کےمخفی اسباب ظاہری اسباب سے زیادہ ہیں بلکہ اتنے زیادہ ہیں کہ جنہیں شمار کیاجاسکتاہےنہ ان راستوں کے بارے میں بتایاجاسکتاہے کیونکہ اسباب زمین پرظاہرہوتےہیں لیکن بنتے آسمانوں میں ہیں اورآسمانی راز معلوم نہیں کئے جاسکتے۔چنانچہ فرمان باری تعالیٰ ہے:
وَ فِی السَّمَآءِ رِزْقُکُمْ وَ مَا تُوۡعَدُوۡنَ ﴿۲۲﴾ (پ۲۶،الذٰریٰت:۲۲)
ترجمۂ کنز الایمان:اور آسمان میں تمہارا رزق ہے اور جو تمہیں وعدہ دیاجاتا ہے۔
حکایت:مجبور ہوکر توکل کرنا درست نہیں
منقول ہے کہ کچھ لوگ حضرت سیِّدُنا جُنَیْد بغدادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِی کےپاس آئے تو آپ نے فرمایا:”اپنی حاجت بتاؤ؟“انہوں نےکہا:”رزق چاہئے۔“فرمایا:”اگر اس کی جگہ معلوم ہےتو وہاں سے لے لو۔“ انہوں نے کہا:”ہم اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے مانگتے ہیں۔“فرمایا:”اگر تمہاراخیال یہ ہےکہ وہ تمہیں رزق دینا بھول گیا ہےتو اسےیاد دلادو۔“ انہوں عرض کی:”پھر توہمیں گھر بیٹھ کر توکل کرنا چاہئے جوہوگادیکھ لیں گے۔“ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:” تجربہ کےلئےتوکل کرنادرست نہیں۔“عرض کی:”کیارزق ملنے کا کوئی ذریعہ ہے؟“فرمایا:”ذریعہ ڈھونڈنا چھوڑدو۔“
حضرت سیِّدُنا احمد بن عیسٰی خراز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الرَّزَاق فرماتے ہیں:میں ایک جنگل میں تھاکہ مجھے سخت بھوک لگی، میرےنفس نے مجھ سے کہا:اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے کھاناطلب کر۔میں نے کہا:یہ توکل والوں کاکام نہیں۔ اس نےکہا: اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے صبرہی طلب کرلے۔ میں نے ابھی ارادہ کیاہی تھا کہ ایک آواز آئی:
وَیَزْعَمُ اَنَّہُ مِنَّا قَرِیْبٌ وَاِنَّا لَانَضِیْعُ مَنْ اَتَانَا
وَ یَسْاَلُنَا عَلَی الْاِقْتَارِ جُھْدًا کَاَنَّا لَانَرَاہُ وَلَا یَرَانا
ترجمہ:(۱)…وہ گمان کرتا ہے کہ وہ ہم سے قریب ہے حالانکہ ہم اپنے پاس آنے والے کو محروم نہیں کرتے۔