جوکہ اُخروی راستہ نہیں ہے،ان تمام چیزوں کا بغیرکام کاج ملنامشکل ہےبلکہ عام طور پر کام کاج کے بعد بھی ملنا مشکل ہوتاہےکہ یہ تمام چیزیں کسی کسی کو ملتی ہیں جبکہ کسی کوبغیر محنت کے مل جاتی ہیں اورجس کی بصیرت کی آنکھ کھل چکی ہواس کے نزدیک کام کاج کی اہمیت نہیں لہٰذا وہ اپنی محنت پر بھروسا کرنےکے بجائے اللہ عَزَّ وَجَلَّ پر بھروسا کرتاہےکہ جس نے ایسا نظام بنایاکہ بندے کارزق اسے ضرور مل کر رہتا ہےاگرچہ کام کاج نہ کرے مگر کبھی کبھارتاخیربھی ہوجاتی ہےاوریہی تاخیر کام کاج کرنے والے کے حق میں بھی ممکن ہے۔
جب مذکورہ معاملات واضح ہوجائیں نیزان کےساتھ یقین ِقلب اور قوتِ ارادی شامل ہوجائےتو وہی نتیجہ نکلےگاجو حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے فرمایاہے کہ ”میں چاہتاہوں کہ تمام بصرہ والے میرے عیال ہوں اورایک دانہ ایک دینار کا ہو(اللہ عَزَّ وَجَلَّ کےفضل سے کوئی بھوکا نہ رہےگا)۔“
حضرت سیِّدُنا وُہَیْب بن وَرْد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں:اگرآسمان تانبے کااورزمین سیسے کی ہوجائے اوراپنے رزق کا انتظام کرنے والا(حقیقتًا) خودکوسمجھوں تومیں مُشْرِک ہوں گا۔
جب تم ان تمام معاملات کو سمجھ چکے تویہ بھی سمجھ لوکہ توکل ایک ایسا بلند درجہ ہےجہاں ہر اس شخص کا پہنچنا ممکن ہےجو اپنے نفس پر غَلَبَہ حاصل کرلےاوریہ بھی جان لوکہ جو توکل کاسِرے سے انکار کردے اور اسے ناممکن مانےتو اس کا یہ انکار جہالت کی وجہ سے ہےلہٰذاتم دومَحْرُومیوں کو جمع نہ ہونے دیناکہ توکل کی لذت نہ پاسکو توکم از کم اس کا انکارمت کرنا۔
رزق انسان تک ضرور پہنچتا ہے:
تم پر لازم ہےکہ تھوڑےمال پرقناعت کرواورتھوڑی غذا پرراضی رہو کہ رزق تمہارےپاس ضرور آئے گا اگرچہ تم اس سے بھاگواوراس وقت اللہ عَزَّ وَجَلَّ تمہارارزق ایسے شخص کے ہاتھ تم تک پہنچائےگاجس کے بارے میں تمہارا گمان نہ ہوگا۔چنانچہ فرمان باری تعالیٰ ہے:
وَ مَنۡ یَّـتَّقِ اللہَ یَجْعَلْ لَّہٗ مَخْرَجًا ۙ﴿۲﴾ وَّ یَرْزُقْہُ مِنْ حَیۡثُ لَا یَحْتَسِبُ ؕ (پ۲۸،الطلاق:۲، ۳)
ترجمۂ کنز الایمان:اور جو اللہ سے ڈرے اللہ اس کے لیے نجات کی راہ نکال دے گا اور اسے وہاں سے روزی دے گا جہاں اس کا گمان نہ ہو۔