خود کماکر کھائے؟جواب: اگر کام کاج پر قادرشخص بےکارپڑارہےتو لوگوں کا کہناٹھیک ہے،اسے واقعی کام کاج کرنا چاہئے کہ اس کا توکل سے دور کا واسطہ بھی نہیں کیونکہ توکل ایک دینی رُتبہ ہےجوکہ حصولِ رضائے الٰہی پر مددگار ثابت ہوتاہے،نکما پن اور توکل کاآپس میں کوئی تعلق نہیں۔
یاد الٰہی میں مشغول رہنے کادنیاوی فائدہ:
وہ شخص جو یاد الٰہی میں مشغول رہے اورپھرمسجد یا گھرمیں رہ کر حصول ِعلم وعبادت میں مصروف رہے تو ایسے شخص کو کام کاج چھوڑ نے پر لوگ ملامت کرتےہیں نہ کمانے کاپابند کرتےہیں بلکہ یاد الٰہی میں مشغولیت کے سبب لوگوں کے دلوں میں اس کی محبت پیداہوجاتی ہے یہاں تک کہ لوگ اس کے گزارے سے زیادہ سامان اس کے پاس پہنچادیتے ہیں، البتہ اس پر لازم ہےکہ نہ تواپنا دروازہ بند کرے نہ ہی پہاڑوں کی طرف بھاگے، آج تک نہیں دیکھا گیاکہ کوئی عالم یاعابد شہر میں رہ کریاد الٰہی میں مشغول ہواور بھوکامراہواورنہ ہی کبھی دیکھا جائے گابلکہ اگر وہ ایک جملہ کہہ کر کھانے کالنگر جاری کرناچاہےتوایسا کرسکتاہے کیونکہ جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا ہوجاتاہے اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کاہوجاتاہےنیزجو یاد الٰہی میں مشغول رہے اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کی محبت لوگوں کے دلوں میں ڈال دیتاہے کہ لوگوں کےدل اس کی جانب اس طرح کھنچتے ہیں جس طرح ماں کا دل بچے کی جانب کھنچتا ہے۔یاد رہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نےزمین وآسمان کے نِظام کواس طرح بنایاہے کہ یہ نظام زمین وآسمان والوں کے لئے کافی ہے،لہٰذا جو اس نظام کا مشاہدہ کرے گا اس کا اعتماد اللہ عَزَّ وَجَلَّ پر پختہ ہوجائے گااوراس پر ایمان لے آئے گا پھراسی کی یاد میں مشغول رہےگااورنظر اسباب سے ہٹاکر اسباب پیداکرنے والے پر رکھےگا۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے یہ نظام نہیں بنایاکہ وہ اپنی یاد میں مشغول رہنے والے کو روزانہ مٹھائیاں،مرغ مسلَّم، عمدہ کپڑے اور بہترین سواریاں لازمی دےگا،اگرچہ یہ چیزیں کبھی کبھارمل بھی جاتی ہیں لیکن اس نے ایسا نِظام ضروربنایاہےکہ عبادت میں مشغول رہنےوالوں تک ہرہفتہ جَو کی روٹی یاگھاس وغیرہ پہنچ جائے کہ جس پر ان کاگزارہ ہوسکےحالانکہ عام طورپراس سےزیادہ ہی ملتاہےبلکہ حاجت اورضرورت سےبھی زیادہ ملتاہے۔
توکل نہ کرنےکا سبب:
توکل نہ کرنے کاسبب بس یہی ہےکہ نفس بہترین کپڑے،عمدہ غذائیں اور دیگر لذتوں کا عادی ہوچکا ہے