غالب کردیاکہ اگر کسی کو معلوم ہوجائے کہ فلاں شخص حاجت مند ہےتو اس کا دل دکھتاہےاورنرم ہوجاتا ہے نیز اس کی حاجت پوری کرنے کی کوشش کرتاہے، شفقت کرنے والاپہلے ایک تھااوراب ہزاروں ہوگئے، شہروالے پہلے شفیق نہ تھے کیونکہ وہ جانتےتھے کہ یہ بچہ ماں باپ کے زیرسایہ ہے، خاص شفقتوں میں ہے اور محتاج نہیں ہےاگروہ بچہ یتیم ہوتاتو اللہ عَزَّ وَجَلَّ ضرور کسی نہ کسی مسلمان یاجماعت کےدل پررحم غالب کردیتا یہاں تک کہ وہ اس یتیم کی سرپرستی کرتےاوراخراجات اٹھاتے۔
آج تک نہیں دیکھاگیا کہ عوام خوشحال ہواور کوئی یتیم بھوکا مرجائےحالانکہ وہ کام کاج کے قابل ہوتاہے نہ ہی کوئی ایک شخص اس کی مکمل سرپرستی کرتاہےپھر بھی اللہ عَزَّ وَجَلَّ اپنے بندوں کےدلوں میں شفقت پیدا کرکے اس کے سارے کام کروادیتاہے،کیا اس کے لئےیہ مناسب ہےکہ بالغ ہونےکے بعد رزق کی تلاش میں اپنے دل کومگن رکھے جبکہ بچپن میں ایسی کوئی کوشش نہیں کی تھی،پہلے شفیق ایک تھااوراب ہزاروں ہیں؟یہ ممکن ہے کہ ماں کی شفقت زیادہ اورمضبوط ہولیکن وہ ایک ذات ہےجبکہ لوگوں کی الگ الگ شفقتیں اگرچہ کمزور ہیں لیکن مجموعی شفقتوں سےیہ کمزوری دور ہوسکتی ہےاورفوائدحاصل ہوسکتے ہیں،کئی یتیم ایسے ہیں کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے جن پر آسانی فرمائی اوران کی حالت ماں باپ کی پرورش میں رہنے والے بچوں سے کہیں زیادہ اچھی ہے، لہٰذا انسان کو چاہئے کہ کثیر لوگوں کی شفقتوں سے ان کی شفقتوں کی کمزوری کےنقصان کوپورا کرے نیز خوشحال زندگی چھوڑ کر بقدرضرورت پرگزارہ کرکےیہ نقصان پوراکرے۔کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے:
جَرٰی قَلَمُ الْقَضَاءِ بِمَا یَکُوْنُ فَسِیَّانِ التَحَرُّکُ وَالسُّکُوْنُ
جُنُوْنٌ مِنْکَ اَنْ تَسْعٰی لِرِزْقٍ وَیُرْزَقُ فِیْ غِشَاوَتِہٖ الْجَنِیْنُ
ترجمہ:(۱)…ہر ہونے والی چیز پر تقدیر کاقلم چَل چکاہے،لہٰذاحرکت کرنا نہ کرنا دونوں برابرہیں۔
(۲)…تمہارا رزق کی تلاش میں بھٹکناپاگل پن ہےکہ پیٹ کے بچے کوبھی رزق دیاجاتاہے۔
ایک سُوال اور اس کا جواب:
یتیم کی سرپرستی کی وجہ یہ ہے کہ لوگ جانتے ہیں کہ وہ بچپن کی وجہ سے کام کاج نہیں کرسکتاجبکہ بالغ کام کاج کرنے پر قادر ہوتاہےلہٰذالوگ اس کی جانب توجّہ نہیں کرتے بلکہ کہتے ہیں:یہ تو ہماری طرح ہے،