کے اعتبار سےتوکل کرنےکی اجازت ہوگی۔ چونکہ بندے کی اپنی جان بھی عیال میں داخل ہےلہٰذا اسے بھی ضائع کرناجائز نہیں ہے،البتہ خود بھی بھوکا رہنے کی عادت بنالی تو توکل کرنادرست ہوگا اور اگر بھوکا رہنےکی طاقت نہ ہوکہ دل پریشان ہوتاہواور عبادت میں دشواری ہوتی ہوتوایسی صورت میں توکل جائز نہیں ہے۔
حکایت:توکل کے بغیر تصوُّف ممکن نہیں
منقول ہےکہ ایک صوفی نےتین دن بھوکا رہنے کےبعدتربوز کے چھلکے کی جانب ہاتھ بڑھایا تاکہ اسے کھاسکے، حضرت سیِّدُنا ابوتُراب نخشبی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے یہ دیکھ کر فرمایا:”تمہارا تصوف درست نہیں ،بازار جایا کرو۔“مطلب یہ کہ تصوف توکل کے بغیر نہیں پایاجاتا اور توکل وہی کرسکتاہے جو تین دن سے زیادہ بھوکا رہ سکے۔
حضرت ابوعلی روزباری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِی فرماتے ہیں: فقیر جب پانچ دن بعد یہ کہے کہ میں بھوکاہوں تو تم لوگ اسے بازار بھیج دواور کام کاج کرنے کا کہو۔
اہل وعیال کو مشقت میں ڈالنا جائز نہیں:
چونکہ بندے کی جان عیال میں داخل ہےلہٰذااس کاتوکل یہ ہے کہ نقصان دہ چیزوں سے خود کو بچائے جس طرح اہل وعیال کو بچاناتوکل ہے،البتہ بھوک پر صبر کرکے اپنےجسم کواس کاعادی بنانا جائز ہےجبکہ اہل وعیال کو اس کا عادی بنانا جائز نہیں ہے۔
یہ بات تم پر ظاہر ہوچکی ہےکہ توکل اسباب سے علیحدگی اختیار کرنے کا نام نہیں بلکہ کچھ دن تک بھوکا رہنے پر بھروسا ہونےاور بالفرض رزق نہ ملے تو موت پر راضی رہنےنیزشہروں اور دیہاتوں میں رہنے یا جنگلوں میں رہنے کانام ہےجبکہ وہاں گھاس وغیرہ کچھ نہ کچھ کھانے کومل جایاکرے(اس طرح توکل تو ہوجائےگا) لیکن تکلیف ضرور ہوگی کیونکہ ان چیزوں کا مسلسل کھانااسی وقت ممکن ہے جب کہ صبر کی عادت ڈالی جائے۔
شہر میں توکل آسان ہے:
شہر میں توکل جنگل میں توکل کرنے سے زیادہ آسان ہے کیونکہ شہر میں (کھانےپینے کے)اسباب بآسانی میسّر آجاتےہیں اگرچہ اسباب دونوں جگہوں پر ہیں لیکن لوگ ظاہری اسباب کی جانب یوں متوجّہ رہتے ہیں کہ پھر