چوتھی فصل: اہل و عیال والے کا توکل
اہل و عیال والے اوراکیلے آدمی دونوں کے توکل میں بڑافرق ہےکیونکہ اکیلے آدمی کا ”مُتَوَکِّل“ بننے کے لئے دوباتوں پر عمل کرنا ضروری ہے:ایک بات یہ کہ ہفتہ بھربھوکارہنےپر قادر ہونااور کسی کی جانب توجّہ نہ کرنا اور نہ دل میں تنگی محسوس کرنا دوسری بات یہ کہ جوباتیں ذکرہوئی ہیں ان پر ایمان لانامثلاً اگررزق نہ پہنچے تو موت اور بھوک کوہی اپنارزق سمجھ کربخوشی موت پسند کرناکہ اس میں اگرچہ دنیوی نقصان ہے لیکن یہ بات آخرت میں (درجات کی)زیادتی کا سبب ہےلہٰذا یہ سمجھے کہ دو قسم کے رزق میں سے بہتر رزق اس کی جانب آیا ہے جوکہ آخرت کارزق ہے اوریوں گمان کرے کہ یہ وہی بیماری ہےجس میں موت آئے گی لہٰذا اس پر راضی رہے اور یوں خیال کرے کہ اس کےلئےیہی فیصلہ مقرّرکیاگیاہے۔چنانچہ ان باتوں پر عمل کرنے کے بعد اکیلےشخص کاتوکل کامل ہوجائےگا۔
اہل و عیال کو بھوک کی تکلیف دینا:
اہل و عیال کوبھوک کی تکلیف دینا جائز نہیں،ان کےسامنےتوحید کی لمبی چوڑی گفتگو کرنادرست ہےنہ ہی یہ کہنادرست ہےکہ بھوکامرناقابل رشک رزق ہےاگرچہ یہ کبھی کبھار پایاجاتاہےنیز اس قسم کی دیگر باتیں کرنابھی درست نہیں کیونکہ اہل و عیال والے کےلئے درست یہی ہےکہ کمائی کرنے والے کی طرح توکل کرےجو کہ تیسرادرجہ ہےجس طرح خلیفہ اوّل امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا ابو بکر صِدِّیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے کمانے کے لئے(بازار تشریف لاکر)توکل کیاتھا۔
اہل و عیال کو ہلاکت میں ڈالنا منع ہے:
توکل کرتےہوئےاہل وعیال سےعلیحدہ ہوکرجنگلوں میں رہنایاگھرمیں بیٹھےرہناکہ ان کی ضروریات کا انتظام نہ کرناپڑے یہ حرام ہےکیونکہ یہ چیز انہیں ہلاکت کی طرف لے جاسکتی ہے جس پر اس کی پکڑ ہے۔
تحقیق یہ ہےکہ بندے اور اہل و عیال کےتوکل کےدرمیان کوئی فرق نہیں اگر اہل وعیال بھوک پر چند دن صبر کرنے کی عادت بنالیں اور بھوکا مرنے کواُخروی رزق اور فائدہ شمار کرلیں تو بندے کے لئے اہل وعیال