Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
812 - 882
 کنویں کا منہ  کھولاپھر اپنے پاؤں لٹکائے اوریوں بڑبڑاتے ہوئےکہا:لٹک جاؤ،جیسےکہ میں اس کی بات سمجھ رہا ہوں۔ جب  میں پاؤں پکڑ کر لٹک گیاتواس نے مجھےکنویں سے  نکالااور چلاگیا۔وہ ایک درندہ تھا۔ایک آواز آئی:اے ابوحمزہ! کیا یہ زیادہ بہتر نہیں ہےکہ ہم نے تمہیں ہلاکت کے ذریعہ ہلاکت سے بچایا؟آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ میں یہ کہتاہوا چل پڑا:
نَھَانِیْ حَیَائِیْ مِنْکَ اَنْ اَکْشِفَ الْھَوٰی	وَ اَغْنَیْتَنِیْ بِالْفَھْمِ مِنْکَ عَنِ الْکَشْفِ
تَلَطَّفْتَ فِیْ اَمْرِیْ فَاَبْدَیْتَ شَاھِدِیْ	اِلٰی غَائِبِیْ وَاللُّطْفُ یُدْرَکُ بِاللُطْفِ
تَرَاءَیْتَ لِیْ بِالْغَیْبِ حَتّٰی  کَاَنَّمَا	تُبَشِّرُنِیْ بِالْغَیْبِ اِنَّکَ فِی الْکَفِّ
اَرَاکَ وَ بِیْ مِنْ ھَیْبَتِیْ لَکَ وَحْشَةً 	فَتُؤْنِسُنِیْ بِاللُّطْفِ مِنْکَ وَ بِالْعَطْفِ
وَ تُحْیِیْ مُحِبًّا اَنْتَ فِی الْحُبِّ حَتْفُہ	وَ ذَا عَجَبٍ کَوْنُ الْحَیَاةِ مَعَ الْحَتْفِ
	ترجمہ:(۱)…شرم و حیا نے مجھے اس بات سے روک دیاکہ تجھ پر عشق کا اظہار کروں لیکن تونے خود ہی عشق  کو جاننے کے سبب مجھے اظہارِ عشق کی فکروں سے بے نیاز کردیا۔
	(۲)…مہربانی مہربان کی جانب سے ہی ہوتی ہے اور تیری مہربانی مجھ پر یوں ہوتی ہے کہ تو خود میری پوشیدہ تمناؤں کو ظاہر کردیتاہے۔
	(۳)…پھر تونے اپنا غائبانہ دیدار کرواکرمجھے اس طرح خوش کردیاگویا تو بالکل سامنے ہے۔
	(۴)…مگر جب تیری  جانب توجّہ کی تو گھبراہٹ ہونے لگی لیکن تو نے اپنے فضل وکرم سے مجھےاُنسیت عطافرمائی۔
	(۵)… اور جو تیری محبت میں قتل ہوتواسے زندہ رکھتاہےاور یہ بڑی عجیب بات ہے کہ موت کے ساتھ ساتھ زندگی بھی پائی جائے۔    
	اس طرح کے واقعات بہت زیادہ ہیں لہٰذاجب بندے کا ایمان اس بات پر مضبوط ہوجائے کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ہی اپنے فضل سےمخفی اسباب کےذریعہ رزق عطافرماتاہےاورمیں ایک ہفتہ بغیرتنگ دلی کے بھوک برداشت کرسکتا ہوں اوراگرمجھ تک  رزق نہ پہنچاتواس کا مطلب ہے کہ  اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے نزدیک  میرامرناہی بہتر ہےکہ اسی وجہ سے اس نے رزق نہ دیااورپھران تمام باتوں کامشاہدہ  بھی کرے تویوں اس کاتوکل کامل ہوجائے گا ورنہ توپایاہی نہیں جائےگا۔