حکایت:دروازے پر بیٹھنے والا گوشہ نشین
(7)…روایت میں ہےکہ ایک شخص امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عُمَر فارُوقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے دروازے پر آکر بیٹھاکرتاتھا۔ ایک مرتبہ کسی سےسنا:”اےشخص! تم نے ہجرت حضرت عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کےلئے کی ہے یا اللہ عَزَّ وَجَلَّ کےلئے ؟تم جاؤاور قرآن سیکھوکہ تمہیں حضرت عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے دروازے کی حاجت نہ رہے گی۔“وہ شخص چلاگیاپھر نظر نہ آیا۔امیرالمؤمنینرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنےاسے تلاش کروایا تو معلوم ہوا کہ وہ گوشہ نشین ہوچکاہےاورعبادت میں مشغول رہتا ہے۔آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ اس کے پاس تشریف لائے اور فرمایا:”میں تمہارا اِشتیاق رکھتاتھا پھر تم مجھ سے دورکیوں ہوئے ؟“ اس نے کہا:”میں نے قرآن پڑھا تو مجھے آپ اور آپ کی اولادکی حاجت نہ رہی۔“آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا:”اللہ عَزَّ وَجَلَّ تم پر رحم کرے،تم نے قرآن میں کیا پایا؟”اس نے یہ آیت مبارکہ پڑھی: وَ فِی السَّمَآءِ رِزْقُکُمْ وَ مَا تُوۡعَدُوۡنَ ﴿۲۲﴾ (پ۲۶،الذٰریٰت:۲۲)
ترجمۂ کنز الایمان:اور آسمان میں تمہارا رزق ہے اور جو تمہیں وعدہ دیاجاتا ہے۔
پھر کہنے لگا:”میرا رزق آسمانوں میں ہے اور میں اسے زمین پر ڈھونڈتارہا۔“حضرت سیِّدُنا عمرفاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ (یہ سن کر) رونے لگے پھر فرمایا:”تم نے سچ کہا۔“اس کے بعد آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ اس کے پاس تشریف لاتے اور بیٹھا کرتے ۔
حکایت:درندے کے ذریعے مدد
(8)…حضرت سیِّدُنا ابوحمزہ خُراسانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی فرماتےہیں:میں نے کئی حج کیے، ایک مرتبہ یوں ہواکہ میں دوران سفر کسی کنویں میں جاگرااورپھرمیرے نفس نے مجھےمدد طلب کرنے پر ابھارا۔میں نے کہا: اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم! میں کسی سے مدد نہیں مانگوں گا۔یہی خیال جمائےہوئےتھا کہ دو آدمی کنویں کےقریب آئے اور ایک نےدوسرےسے کہا:آؤ!کنویں کوبند کردیں تاکہ کوئی کنویں میں گر نہ جائے۔وہ دونوں بانس اور چٹائی لے آئے اور کنویں کا منہ ڈھانپ دیا۔میں نے پکارناچاہالیکن اپنے دل میں کہا:کسے پکاروں؟ (جسے پکارنا ہے) وہ ان دونوں سے زیادہ قریب ہے۔میں پرسکون ہوگیا۔کچھ دیر گزری تھی کہ اچانک کوئی جانورآیا اور