کرو۔“ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں:”مَکَّۃُ الْمُکَرَّمَہ کے قریب پہنچنے تک میراان پر گزر بَسر ہوتارہا۔“
حکایت:سیِّدُنا بنان رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کی خدمت میں تحفہ
(5)…ایک مرتبہ حضرت سیِّدُنا بنان حَمّال رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو خدمت گار کنیز کی ضرورت پڑی توآپ نے بِلاتکلف دوستوں سے ذکرکیا۔ انہوں نے رقم جمع کی اور کہا:”ایک قافلہ آرہاہےہم اس میں سےکسی مُناسِب کنیز کوخرید لیں گے۔“ جب قافلہ آیا تو دوستوں نے ایک کنیز متّفقہ طور پر پسند کی اور کہا:”یہ حضرت بنان کے لئے مناسب ہے۔“ پھر کنیز کے مالک سے پوچھا:”اس کنیز کی قیمت کتنی ہے؟“مالک نے کہا:”یہ بیچنے کے لئے نہیں ہے۔“ انہوں نے بیچنے پر اصرار کیاتو مالک کہنے لگا:”یہ حضرت بنان حمال کی کنیز ہےجسے ایک عورت نے سمرقند سے تحفہ بھیجاہے،لہٰذا اس کنیز کو حضرت بنانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان کی خدمت میں پہنچادیاگیا اور واقعہ عرض کردیا گیا۔
منقول ہے کہ پرانے زمانے میں ایک آدمی سفر میں تھاجس کے پاس ایک روٹی تھی، اس نے کہا:اگر ابھی اس کو کھالیا تو بھوک سے مرجاؤں گاحالانکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ایک فرشتہ مقرّر کردیاتھا کہ اگر یہ روٹی کھالے تو دوسری دینااوراگر نہ کھائے تو دوسری مت دینا،روٹی اس آدمی کے پاس ہی رہی اوروہ اسے کھائے بغیر مرگیا۔
حکایت:لوگوں پر بھروسا نہ کیا
(6)…حضرت سیِّدُنا ابوسعید خراز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الرَّزَاق فرماتےہیں:میں ایک جنگل میں پہنچاتوزادِراہ کچھ نہ تھا، مجھےشدید بھوک کا احساس ہوا،دور ایک بستی نظرآئی تو میں خوش ہوگیالیکن پھراپنے اوپریوں غور کیاکہ میں نے دوسرے پر بھروسا کیاہےاوردوسرے سے سکون حاصل کرناچاہاہے،لہٰذامیں نے قسم کھائی کہ بستی میں تب تک داخل نہ ہوں گا جب تک اٹھاکر نہ لےجایاجائے۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں: میں نے گڑھا کھودا اور اس کی ریت میں جسم سینہ تک چھپالیا۔آدھی رات کوایک بلند آواز سنی:اے بستی والو!اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ایک ولی نے اپنے آپ کوریت میں چھپا لیا ہے تم ان کے پاس جاؤ۔لوگ آئےاورآپ کو ریت سے نکالا پھر اٹھاکر بستی میں لے گئے۔