ہے۔“ نیز اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے:
وَ اِنۡ تَکُ حَسَنَۃً یُّضٰعِفْہَا وَیُؤْتِ مِنۡ لَّدُنْہُ اَجْرًا عَظِیۡمًا ﴿۴۰﴾ (پ۵،النسآء:۴۰)
ترجمۂ کنز الایمان:اور اگر کوئی نیکی ہو تو اسے دونی کرتا اور اپنے پاس سے بڑا ثواب دیتا ہے۔
نیکیوں اور گناہوں سے مربوط جنتی اورجہنمی ٹھکانوں سے متعلق یہ اصولی باتیں شریعت کے قطعی دلائل اور نورِ معرفت سے معلوم ویقینی ہیں جبکہ ان کی تفصیلات ظَنّی ہیں اور اس پر دلیل احادِیْثِ مُبارَکہ کا ظاہر اور ایسا فَہم وفراست ہے جسے نگاہِ عبرت سے حاصل ہونے والے نورِ بصیرت سے مدد ملتی ہے۔
کسے کیا عذاب ہوگا؟
ہم کہتے ہیں کہ جو بندہ اصل ایمان کو پختہ کرلے، گناہوں سے اجتناب کرے، تمام فرائض یعنی ارکانِ اسلام کو بحسن وخوبی ادا کرے اور اس سے بغیر اصرار کے بعض مختلف قسم کے صغیرہ گناہ صادر ہوئے تو ممکن ہے اس کی سزا صرف حساب میں سختی ہو کیونکہ جب اس سے حساب لیا جائے گا تو نیکیاں گناہوں سے زیادہ ہوں گی کہ احادیثِ مبارکہ میں ہے”پانچوں نمازیں، جمعہ اور رمضان کا روزہ درمیان میں ہونے والے گناہوں کو مٹادیتے ہیں۔“ یوں ہی قرآن کی واضح آیتِ مبارکہ(1)کے مطابق کبیرہ گناہوں سے بچنا بھی صغیرہ گناہوں کو مٹادیتا ہے اور گناہ کو مٹانے کا کم از کم درجہ یہ ہے کہ عذاب دور ہوجائے اگرچہ حساب سے نہ بچ پائے اور جس کا یہ حال ہو کہ نیکیاں زیادہ ہوئیں تو وہ اس لائق ہے کہ میزان میں نیکیوں کا پلڑا بھاری ہونے اور حساب سے فارغ ہونے کے بعد مَن چاہتے عیش (یعنی جنت) میں ہو۔ البتہ! اس کا اصحابِ یمین (بارگاہِ الٰہی کے مُعَززومُکَرَّم بندوں) یا مُقَرَّبِیْنِ بارگاہ سے ملنا اور خاص جنتِ عدن یا جنتُ الفردوس میں جانا ایمان کی اقسام پر منحصر ہے۔ ایمان کی درج ذیل دو قسمیں ہیں۔
ایمان کی دوقسمیں:
(۱)…تقلیدی ایمان (۲)…کشفی ایمان۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1… اِنۡ تَجْتَنِبُوۡا کَبَآئِرَ مَا تُنْہَوْنَ عَنْہُ نُکَفِّرْ عَنۡکُمْ سَیِّاٰتِکُمْ (پ۵،النسآء:۳۱) ترجمۂ کنزالایمان:اگر بچتے رہو کبیرہ گناہوں سے جن کی تمہیں ممانعت ہے تو تمہارے اور گناہ ہم بخش دیں گے۔