Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
809 - 882
نے اسے پھینک دیا اورمسجد میں آکربیٹھ گیا۔ یکایک ایک اجنبی شخص آیااور میرے سامنےایک تھیلا رکھ کر بیٹھ گیا اور کہنے لگا:”یہ تھیلا آپ کےلئے ہے۔“میں نے کہا:”تم نے تھیلامجھے ہی کیوں دیا؟“اس نے کہا:”ہم دس دن سے سمندر میں پھنسے ہوئے تھےجب جہاز ڈوبنے کےقریب ہواتو میں نے منَّت مانی کہ اگر اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے مجھے بچایا تو سب سے پہلےجو(حرم شریف) کا مُجاوِر ملے گااُس پریہ تھیلاصدقہ کروں گا،سب سے پہلے ملنے والے آپ ہیں۔“ میں نےاس سے کہا:”اسے کھولو۔“اس نے  کھولاتو اس میں مِصْرِی حلوہ، چھلےہوئے بادام اور بَرفی تھی۔ میں نے ہر ایک میں سے تھوڑاتھوڑا لیااور کہا:”میں لے چکاہوں، باقی میری طرف سے تحفہ سمجھ کر اپنے دوستوں میں تقسیم کردینا۔“پھر میں نےاپنے نفس سےکہا:”تیرا رزق دس دن سے تیری طرف آرہا تھا اور تو اسے وادی میں ڈھونڈ رہاتھا۔“
حکایت:تیراکام لینا ہے دینا نہیں
(3)…حضرت سیِّدُنا ممشاد دَینوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں کہ مجھ پر کچھ قرض تھاجس کی وجہ سے میرا دل پریشان ہوگیا۔ میں نے خواب دیکھاکوئی کہہ رہاتھا:”اےبخیل!تو نے ہمارے لئے تھوڑا سا قرضہ لیا ہے اور لے! تیرا کام لیناہے دینا ہمارا کام ہے۔“آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ اس کے بعد میں نے کبھی کسی سبزی فروش اورقصاب وغیرہ سےپوچھ گچھ نہ کی۔
حکایت:مکہ مُکَرَّمَہ کا سَفَر
(4)…حضرت سیِّدُنا بنان حَمّال رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ میں مصر سے مَکَّۃُ الْمُکَرَّمَہ کی جانب آرہا تھا اور زادِراہ میرے پاس تھا کہ ایک عورت میرے پاس آئی اورکہنے لگی:”اےبنان!واقعی تم حَمّال (یعنی بوجھ اٹھانے والے ہو)کہ تم نے اپنی کمر پراپنا زادِراہ اٹھایاہواہے،کیا تمہارا یہ خیال ہےکہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ تمہیں رزق نہ دے گا؟“ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ یہ سن کر میں نے زادِراہ پھینک دیا۔ تین دن گزر گئے کچھ  نہ کھاسکا پھر مجھے راستے میں ایک پازیب ملاتواپنے دل میں کہا:”میں اسے اٹھالیتاہوں،جب اس کامالک آئےگاتو اسے واپس کردوں گاشاید وہ مجھےکچھ چیز دےدے۔“یکایک وہی عورت آئی اور کہنے لگی:”تم تو تاجرہوکہ پازیب کا مالک آئے گا تو کچھ نہ کچھ لے لو گے۔“پھر اس عورت نے میری طرف چنددرہم پھینکے اور کہا:”انہیں خرچ