Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
808 - 882
عَلَیْہنے لکھا: اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  کے نام سے جو بڑامہربان اور نہایت رحم والا، ہرحالت میں توہی مقصود ہے اور ہرحالت میں تو ہی مطلوب ہے ،پھر یہ اشعار لکھے:
اَنَا حَامِدٌ اَنَا شَاکِرٌ اَنَا ذَاکِرٌ	اَنَا جَائِعٌ اَنَا ضَائِعٌ اَنَا عَارِیْ
ھِیَ سِتَّةٌ وَاَنَا الضَّمِیْنُ لِـنِصْفِھَا	فَکُنِ الضَّمِیْنَ لِـنِصْفِھَا یَابَارِیْ
مَدْحِیْ لِغَیْرِکَ لَھْبُ نَارٍ خُضْتُھَا	فَاَجِرْ عُبَیْدَکَ مِنْ دُخُوْلِ النَّارِ
ترجمہ:(۱)میں حمدکرنے والاہوں،میں شکرکرنے والاہوں،میں ذکرکرنےوالاہوں ،میں بھوکاہوں،میں پیاسا ہوں، میں برہَنہ ہوں۔
(۲)اے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ!یہ چھ باتیں ہیں،تین میرے ذِمَّہ ہیں اورتین تیرے  ذِمَّہ کرم پر ہیں۔
(۳)تیرے علاوہ کسی کی تعریف کروں تو جہنم میں داخل ہوجاؤں،تو مجھ حقیر بندے کو جہنم میں داخل ہونے سے بچا۔
	پھر مجھے وہ کاغذ دیتےہوئے فرمایا:باہر جاؤاورتمہارے دل میں اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے سوا کسی کا خیال نہ آئے اور جو شخص سب سےپہلےملےاسےیہ کاغذدےدینا۔میں باہَرنکلاتوایک خَچَّرسوارملا،میں نےوہ کاغذ اسےپکڑا دیا، اس نے پکڑااوراسے پڑھاتو رونے لگااور پوچھنےلگا:یہ کاغذ لکھنے والے کہاں ہیں ؟میں نے کہا:وہ فلاں مسجد میں ہیں۔ اس خچر سوار نے مجھے ایک تھیلی دی جس میں 600دینار تھے۔ میں نے ایک دوسرے آدمی سے اس خچر سوار کے متعلق پوچھاتو اس نے کہا:وہ نصرانی ہے۔میں حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم کے پاس لوٹ آیا اور پوراقصہ سنایاتوآپ نے فرمایا:دیناروں کومت چُھوناوہ کچھ دیر میں آئےگا۔ کچھ دیر گزری تووہ نصرانی آیااور جھک کر حضرت کےسرکو بوسہ دیااوراسلام لے آیا۔
حکایت:وادی میں نکلنے پر ندامت
(2)…حضرت سیِّدُنا ابویعقوب بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتےہیں کہ میں ایک مرتبہ مسجدِ حرام میں دس دن تک بھوکا رہا،کچھ کمزوری محسوس ہوئی تومیرے نفس نے باہر نکلنے کامشورہ دیالہٰذامیں ایک وادی کی طرف گیا کہ شایدوہاں کچھ مل جائے اور کمزوری دور ہوجائے۔وہاں ایک شلجم پڑاہواتھاجسے اٹھایاتو دل  نےکھاناگوارا نہ کیا گویا دل نے یوں کہا:”تو10 دن سے بھوکاتھاپھربھی تیرے حصہ میں خراب شلجم آیا۔“میں