Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
807 - 882
حکایت:مُتَوَکِّل عابد اور امام مسجد
	ایک مرتبہ کاذکر ہےکہ کسی عابد نے مسجد میں اعتکاف کیالیکن اس کے پاس مال وغیرہ نہ تھا،مسجد کےامام نے اس سے کہا:”اگرکوئی کام کاج کرتے تو زیادہ اچھاتھا۔“عابد نےکوئی جواب نہ دیا۔جب امام نے چوتھی مرتبہ یہ بات دہرائی تو اس نےکہا:”مسجد کے پڑوس میں ایک یہودی رہتاہےاس نے مجھےروزانہ دو روٹی دینے کاوعدہ کیاہے۔“امام نے کہا:”اگر اس کاوعدہ سچاہےتو  مسجد میں تمہارا ٹھہرنابہترہے۔“یہ سن کر عابد نے کہا:”توحید کامل نہ ہونےکے باوجود تم اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اور اس کے بندوں کےدرمیان کھڑے ہوجاتے ہو، اگر تم امام نہ ہوتےتو یہ زیادہ بہترتھاکیونکہ تم نے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے وعدے پر یہودی کے وعدے کوترجیح دی۔“
	اسی طرح ایک امام مسجدنےکسی نمازی سےپوچھا:”تمہاراگزر بسرکہاں سےہوتاہے؟“نمازی نے جواب دیا:”ٹھہرو! پہلےوہ نماز دہرالوں جو  تمہارے پیچھے پڑھی ہے پھر جواب دیتاہوں۔“
	یہ  گمان کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اپنے فضل سےمخفی اسباب کےذریعہ رزق عطافرماتاہےاسےمضبوط کرنے کے لئے یہ دوا بھی فائدہ مندہےکہ اُن واقعات کو سنا جائے جن میں قدرت الٰہی کےعجائبات  ذکر ہوں کہ وہ بندوں تک رزق کیسے پہنچاتاہےنیزجن میں قہر خداوندی کے عجائبات ذکرہوں کہ وہ تاجروں اور مالداروں کے اموال ہلاک کرکےانہیں  کیسے بھوکا ماردیتاہے؟
مُتَوَکِّلِیْن کی  آٹھ حِکایات
حکایت:نصرانی کا قبول اسلام
(1)…حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم کےخادم حضرت سیِّدُنا حذیفہ مَرْعَشِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی سے کسی نے پوچھا:”حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم کا کوئی عجیب واقعہ دیکھا ہو تو بیان کیجئے۔“ انہوں نےفرمایا:ہم سَفَرِمکہ میں کئی دن تک بھوکے رہے،جب کوفہ پہنچے تو ایک ویران مسجد میں ٹھہرگئے، آپ نے میری طرف دیکھ کر کہا: اےحُذَیْفَہ!میراخیال ہے تم بھوکے ہو۔میں نے عرض کی: آپ کا خیال درست ہے۔آپ نےکاغذ اور دَوَات منگوائی تومیں نے دونوں چیزیں حاضر کردیں، آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی