ہو کیونکہ آپ نےفرمایاہے:”میں اسے نہیں پاسکا۔“ ممکن ہے یہ مراد ہوکہ توکل کاانتہائی درجہ نہ پا سکا۔
توکل کامل کب ہوگا؟
جب تک بندے کاایمان یوں کامل نہ ہوکہ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہی فاعل حقیقی ہےاوروہی رازق ہےاوراس نے فقر وغَنا، موت وزندگی میں سے جوتقدیرمیں لکھ دیا وہی بندے کی تمنا سے بہتر ہے۔‘‘تب تک اس کاتوکل بھی کامل نہ ہوگا کہ ان تمام معاملات پر کامل ایمان ہوناہی توکل کی بنیاد ہےجس کی تفصیل گزر چکی ہے۔اسی طرح ہر دینی بات اورہردینی عمل کی بنیاد بھی ایمان ہے،مختصر یہ کہ توکل ایک مفہومی درجہ ہےجو دل کی قوت اور یقین کی قوت کو چاہتاہے۔چنانچہ حضرت سیِّدُناسہل بن عبداللہ تُستری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں:جس نے کام کاج کرنے پراعتراض کیاوہ سنّت(یعنی طریقہ الٰہی) کو سمجھ نہ سکااورجس نے کام کاج چھوڑنے پراعتراض کیا وہ توحید کو سمجھ نہ سکا۔
ایک سُوال اور اس کا جواب:
کیا کوئی ایسی فائدہ مند دوا ہے جس سےدل ظاہری اسباب پراعتماد نہ کرےاور اللہ عَزَّ وَجَلَّ پر یہ اچھاگمان مضبوط ہوجائےکہ وہی مخفی اسباب کو آسان کرنے والاہے؟جواب:دوایہ ہے کہ تم یہ بات سمجھ جاؤکہ برا گمان شیطان کی جانب سے ہےاوراچھاگمان اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی جانب سے ہے۔چنانچہ فرمان باری تعالیٰ ہے: اَلشَّیۡطٰنُ یَعِدُکُمُ الْفَقْرَ وَیَاۡمُرُکُمۡ بِالْفَحْشَآءِۚ وَاللہُ یَعِدُکُمۡ مَّغْفِرَۃً مِّنْہُ وَفَضْلًاؕ (پ۳،البقرة:۲۶۸)
ترجمۂ کنز الایمان:شیطان تمہیں اندیشہ دلاتا ہے محتاجی کا اور حکم دیتا ہے بےحیائی کا اور اللہ تم سے وعدہ فرماتا ہے بخشش اور فضل کا۔
انسان طبعی طور پرشیطانی اندیشہ سن کر اس میں پھنس جاتاہے،محاورہ ہےکہ”اَلشَّفِیْقُ بِسُوْءِ الظَنِّ مُوْلَعٌ یعنی ہمدرد بُرےگمان میں پھنس کررہ جاتاہے“لہٰذاجب انسان بُزدل ہوجائےاوراس کادل کمزورہوجائےنیز ظاہری اسباب پر اعتماد کرنے والوں کواوران اسباب پر ابھارنےوالوں کودیکھےتواس پربُراگمان غالب آجاتاہے اور یوں توکل مکمل طور پر چلاجاتاہے بلکہ مخفی اسباب کے ذریعہ ملنے والےرزق کی جانب توجّہ کرنا بھی توکل کوختم کردیتا ہے۔