Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
805 - 882
سے مانوس نہ ہو؟جواب:ایسا شخص اپنی ذہن سازی یوں کرےکہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ جن لوگوں کو بغیر مال کے رزق دیتاہےوہ بہت زیادہ ہیں، یونہی جن کےپاس مال ہےان کامال چوری ہوجاتاہے یا خراب ہوجاتاہےاوران کی تعداد بھی زیادہ ہے،پھریہ بات اپنے دل میں بٹھائے کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ جوکرتاہےبہترہی کرتاہے،اگروہ میرا مال ہلاک کردے تو یہ بھی میرےلئے بہترہوگاکیونکہ اگرہلاک نہ کرےتو ہوسکتاہےکہ مال کی وجہ سےمیرا دین برباد ہوجائے اور ایسی صورت میں مال کا ہلاک ہونایقیناً ربّعَزَّ  وَجَلَّ کا فضل ہےنیزمال کی ہلاکت کے باعث زیادہ سے زیادہ یہی ہوگا کہ میں بھوکامرجاؤں گا(اگرمَربھی گیاتو)میرے لئے  بھوکامَرنا اُخروی اعتبار سے بہتر ہے کیونکہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کا یہ فیصلہ میری کسی کوتاہی کے سبب نہیں ہے۔
جب یہ تمام باتیں مذکورہ شخص کےدل میں پختہ ہوجائیں گی تو اس کے دل میں مال کا ہونااورنہ ہونابرابر ہوجائے گا۔
بندہ نہیں جانتا کہ اس کے حق میں کیا بہتر ہے:
	روایت میں ہے کہ ”بندہ رات میں ایسےتجارتی معاملہ پرغورکرتاہےکہ اگر اسے کَرگزرے تو نقصان اٹھائے، اللہ عَزَّ  وَجَلَّاس کی جانب نظر فرماتا ہے اور اسے اس کام سے روک دیتاہے لہٰذاوہ صبح  رنجیدہ اور غمگین ہوتاہےاوراپنے چچازادیا پڑوسی کی نحوست سمجھتا ہے کہ کون میرے آگے آیا؟ کس نے مجھ پر مصیبت ڈال دی؟حالانکہ یہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی اس پر رحمت ہے۔“(1)
	اسی وجہ سےامیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا:”مجھے اس سے کچھ غرض نہیں کہ میری صبح مال داری میں ہویا غربت میں کیونکہ میں نہیں جانتاکہ ان دونوں میں سے کیا میرے حق میں بہترہے۔“
	جسےمذکورہ معاملات پر کامل یقین نہ ہووہ توکل نہیں کرسکتا۔چنانچہ حضرت سیِّدُنا ابوسلیمان دارانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی نے اپنے شاگرد حضرت سیِّدُنا احمدبن ابو حواری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَالِیسے فرمایا:”اس بابرکت توکل کے علاوہ مجھے ہر مقام سے کچھ حصہ ضرورملا ہے لیکن میں اس مقام کی بُوبھی نہ پاسکا۔“یہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی عاجزی ہے کیونکہ آپ بلند مرتبہ پر فائز تھےنیز اس سے یہ بھی ثابت نہیں ہوتا کہ آپ نے ہر درجہ کی نفی کی
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…حلیة الاولیاء، شعبة بن ا لحجاج، ۷/ ۲۴۴، حدیث:۱۰۳۶۴،بتغیرقلیل