میرے ساتھ رہنا چاہتے ہیں لیکن میں ان سے جُدا ہوگیااورمجھے خوف ہوا کہ کہیں دل ان سے مانوس نہ ہوجائے اور میرے توکل میں کمی نہ آجائے۔“
معلوم ہواکہ جب کوئی شخص کمانے کے آداب اور اس کی نیت کی شرائط کا خیال رکھے جیساکہ ”کسب ومعاش کے آداب کے بیان“ میں ذکر ہوا یعنی مال جمع کرےنہ اس پراعتمادکرےاورنہ خوشحالی پربھروسا کرے تو وہ”مُتَوَکِّلْ“ کہلائےگا۔
ایک سُوال اور اس کا جواب:
مال اوربَقَدرِ کفایت پر اعتماد نہ ہونےکی علامت کیا ہے؟جواب:اس کی علامت یہ ہےکہ اگر مال چوری ہوجائے یا تجارت میں نقصان ہوجائے یا کوئی مشکل پیش آجائےتو وہ راضی رہےاوردل کا اطمینان ختم ہونہ دل بے چین ہوبلکہ دل میں سکون ایسا ہی ہوجیسے پہلے تھا کیونکہ دل جس چیزسےمانوس نہ ہواس کے کھونے پربے چین نہیں ہوتااور جس کے کھونے پر بے چین ہو اسی سے مانوس ہوتاہے۔
حکایت:سیِّدُنا بشر حافی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کا کام کاج چھوڑ دینا
منقول ہےکہ حضرت سیِّدُنا بشر حافی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَافِی چَرخہ بناکر گزربَسر کرتےتھے لیکن پھر یہ کام چھوڑدیا۔ وجہ یہ بنی کہ ایک بزرگ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے آپ کو مکتوب لکھا:”مجھے معلوم ہواہےکہ آپ چرخہ بناکر اپنا رزق حاصل کرتے ہیں، اگر اللہ عَزَّ وَجَلَّ سننے اور دیکھنے کی قوّت واپس لےلے تو آپ کیا سمجھتے ہیں کہ اب رزق کون دے گا؟“ یہ بات آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے دل میں اُترگئی لہٰذا آپ نے آلات وغیرہ پھینک دئیے اور کام چھوڑ دیا۔ایک وجہ یہ بیان کی گئی ہے کہ جب آپ چرخہ بنانے میں مشہور ہوگئےاور لوگ آپ کےپاس آنے لگے تو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے کام چھوڑ دیا۔یہ بھی کہا جاتاہےکہ بیوی بچوں کےفوت ہوجانے پر آپ نے یہ کام چھوڑاتھاجس طرح حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کےپا س پچاس دینارتھے اور وہ ان سے تجارت کیا کرتے تھے، جب گھر والےفوت ہوگئے تو آپ نے تمام دینارتقسیم کردئیے۔
ایک سُوال اور اس کا جواب:
ایک شخص یہ جانتاہے کہ مال کےبغیر کاروبار ممکن نہیں ،اب یہ کیسے ہوسکتا ہےکہ مال رکھے اور اس