Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
803 - 882
 داخل ہونے والا”مُتَوَکِّلْ“ نہیں ہوتا جب تک  شرائط نہ  پائی جائیں۔
ایک سُوال اور اس کا جواب:
	گھر میں بیٹھے رہناافضل ہے یا باہر نکل کرکام کاج  کرنا؟جواب:اگرکام کاج  چھوڑنے کی وجہ یہ ہوکہ ذکرواذکاراور عبادت میں دِلْ جَمعی رہےاورکام کاج کرنا اس راہ میں رکاوٹ بنتاہونیزدل اس بات کا منتظر نہ رہے کہ کوئی آئے اور کچھ دے جائے بلکہ صبر پر ثابت قدم رہے اور اللہ عَزَّ  وَجَلَّ پر بھروسا رکھےتو ایسی صورت میں گھربیٹھے رہنا زیادہ بہترہے۔اور اگرگھر میں بیٹھ کر دل پریشان ہو اور لوگوں کا منتظر ہوتوایسی صورت میں کام کاج کرنا بہتر ہےکیونکہ لوگوں کا منتظر رہنادرحقیقت دلی طور پر ان سے مانگنا ہےجسے چھوڑدینا کام کاج ترک کرنے سے زیادہ اہم ہےکیونکہ توکل والوں کے دل جس (دنیاوی) چیز کے منتظر ہوتے ہیں وہ اسے قبول نہیں کرتے۔
حکایت:نفس کے لئے زائد اُجرت نہ لی
	ایک مرتبہ حضرت سیِّدُنا امام احمد بن حنبل عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَوَّل نے حضرت سیِّدُنا ابوبکر مَروَزِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیسے فرمایا:”فلاں فقیر کواُجرت سے زیادہ دینا۔“لیکن فقیرنے  زائدرقم واپس کردی۔ پھرجب وہ  چلا گیا تو حضرت سیِّدُنا امام احمد بن حنبل عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَوَّل نے فرمایا:”اس کے پیچھے جاؤاوراسے زائد رقم دےدو، اب وہ قبول کرلے گا۔“چنانچہ حضرت سیِّدُنا ابوبکر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اس کے پیچھے گئے اوررقم دی تو اس نے لےلی۔ حضرت سیِّدُنا امام احمد بن حنبل عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَوَّل سے اس کی وجہ پوچھی گئی تو فرمایا:”پہلے اس کانفس منتظر تھا، لہٰذا زائد رقم اس نے واپس لوٹا دی، جب وہ چلا گیا تو نفس کی امید ختم ہوگئی اور وہ مایوس ہوگیا ،لہٰذا اس نے رقم لےلی۔“
سیِّدُنا ابراہیم خوّاص رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کا طرز عمل:
	جب حضرت سیِّدُنا ابراہیم خوّاص رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ خود کو کسی کی عطا کی طرف راغب دیکھتے یا آپ کو ڈر ہوتا کہ نفس اس کا عادی ہوجائے گاتو اسے قبول نہ کرتے۔کسی نے آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے پوچھا:”دوران سفر کوئی عجیب واقعہ پیش آیا ہوتواسے بیان کیجئے۔“ فرمایا:”میں نے حضرت سیِّدُنا خضر عَلَیْہِ السَّلَام کو دیکھا کہ وہ