Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
802 - 882
	اس واقعہ سے معلوم ہواکہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کا توکل کمائی اور کوشش سے کنارہ کشی والا توکل نہ تھا  بلکہ اپنی طاقت اور خوشحالی پر بھروسا نہ کرنے والا توکل تھا اورجانتے تھےکہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کوشش کو آسان کرنے والا اور اسباب کاانتظام فرمانے والاہے،اسی وجہ سے کمانے کی  شرائط کالحاظ رکھتےیعنی بَقَدرِحاجت پرگزارہ کرتے، زیادہ مال کی طلب رکھتے  نہ اس پر فخر کرتے اورنہ مال جمع کرتے،نہ ہی اپنےپیسے  کو دوسرے کے پیسےسے اچھا جانتے لہٰذا جوشخص بازار جائے اور اپنے پیسے کو دوسرے  کےپیسے سے اچھا جانے تو وہ دنیا کا حریص  ہے اوراس کی محبت میں ڈوبا ہواہے اور اس کا توکل اسی وقت ہوسکتاہے  جب زہد اختیارکرے، البتہ توکل کے بغیر زہد درست ہوسکتاہےکیونکہ توکل  کا مقام زہد کے بعد ہی آتا ہے۔
حکایت:20 سال تک توکل چھپائے رکھا
	حضرت سیِّدُنا جنید بغدادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِی کے شیخ حضرت سیِّدُنا ابوجعفر حَدّاد عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْجَوَاد جوکہ متوکلین میں سے تھے،فرماتے ہیں:”میں نےبازار میں رہتے ہوئے 20سال تک توکل چھپائے رکھا،میں ہرروز ایک دینار کماتالیکن رات تک معمولی رقم بھی باقی نہ رہتی اوراپنے لئے اتنا بھی نہ بچاتا کہ حمّام  جاکر غسل کرسکوں بلکہ رات ہونے سے پہلے ہی سب خرچ کردیتا۔“آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ حضرت سیِّدُنا جنید بغدادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِی  کی موجودگی میں توکل کےمتعلق گفتگو نہ کرتےاور فرماتے:”ان کی موجودگی میں توکل کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے مجھے حیا آتی ہے۔“
خانقاہ اورتوکل:
	جوشخص مال کی معلوم مقداررکھتا ہو اس کاصوفیا کی خانقاہوں میں رہنا توکل کےخلاف ہے۔اگر مقدار معلوم نہ ہواور( خانقاہ پر کوئی چیز) وقف بھی نہ ہواورپھرخادم کو باہر جاکر کچھ مانگنے کا کہےتو ایسی صورت میں اس کا توکل کمزور ہےاگرچہ اس کا توکل کیفیت اورعلم کےذریعہ مضبوط ہوسکتاہے جس طرح کام کاج  والے کا توکل مضبوط ہوسکتاہےاور اگرکسی سے کچھ نہ مانگااور جو کچھ لوگوں نے دیا اسی پر قناعت کی تو اس کا توکل کام کاج کرنے والے سے زیادہ مضبوط ہےلیکن اگر یہی وجہ  اس کی شہرت کا سبب بن جائے تو خانقاہ اس کے لئے بازار ہوجائےگی اور وہ بازار میں داخل ہونے والے کی طرح ہوگا۔پیچھے وضاحت ہوچکی ہےکہ بازار میں