پہچان نہ کرواتا اور انہیں خبر گیری کی توفیق نہ دیتا تو ممکن تھا کہ سب لوگ اسے بھول جاتے اور وہ مرجاتا۔
تیسرا درجہ:
گھر سے نکلے اور اس طریقے سےکام کاج کرے جوہم نے ”کسب ومعاش کے آداب کے بیان“ کے تیسرے اور چوتھے باب میں ذکر کیا ہے۔اس قسم کی کوشش کرنا توکل کے خلاف نہیں جبکہ دل کے اطمینان کی وجہ اس کی شان وشوکت ہو نہ اس کا سازوسامان ہوکیونکہ بعض اوقات اللہ عَزَّ وَجَلَّ انہیں ایک لمحہ میں ہلاک کردیتاہے بلکہ اس ذات برحق عَزَّ وَجَلَّ پر بھروسا ہوجس نے ان تمام چیزوں کی حفاظت کی اور اسباب اس پر آسان کردئیے بلکہ اپنے مال ودولت اور سامان کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قدرت کے مقابلہ میں اسی طرح دیکھے جس طرح فیصلہ کے وقت بادشاہ کے ہاتھ میں قلم کودیکھتاہےکہ اس کی توجّہ قلم کی طرف نہیں ہوتی بلکہ بادشاہ کے دل کی جانب ہوتی ہے کہ وہ کیا حرکت کرتا ہے،کس جانب مائل ہوتا ہے اور کیا فیصلہ کرتا ہے؟
اگر وہ اپنے گھر والوں کےلئے مال کماتا ہے یا مساکین پر خرچ کرنےکےلئے مال کماتاہےتو جسمانی طور پر کمانے والااور دلی طور پر بےخبر ہے لیکن اس کا معاملہ گھر میں بیٹھے رہنے والے ”مُتَوَکِّلْ“ سے بہتر ہے کیونکہ مال کمانا توکل کے خلاف نہیں ہے جبکہ اس کی شرائط،توکل کی کیفیت اور علم کا لحاظ رکھا جائے۔
سیِّدُنا ابوبکر صدیقرَضِیَ اللہُ عَنْہکا توکل:
یہ بیان ہوچکا ہے کہ جب حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ مَسنَدِخلافت پر فائز ہوئے تواگلی صبح بغل مبارک کے نیچے کپڑے کی گٹھری رکھی،ہاتھ میں گَز پکڑا اور بازار میں داخل ہوکرمال بیچنے لگے۔ مسلمانوں نے اس بات کو ناپسندکیااورکہا:”خلافت کی ذمہ داری کے ساتھ آپ یہ کام کس طرح کرسکتے ہیں؟“ تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نےفرمایا:”مجھےمیرے گھر والوں سےدورنہ کروکہ میں ان کی ذمہ داری پوری نہیں کرسکتا تو دوسروں کی بھی نہیں کرسکتا۔“چنانچہ صحابَۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے آپ کےلئے بقدرضرورت خرچہ مقرر کردیا۔جب تمام صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان اس پر متفق ہوگئے تو آپ نے ان کی کوشش اورخوشی کو دیکھتے ہوئے اُمت مسلمہ کی بھلائی کے لئے اپنا مکمل وقت صَرف کرنا زیادہ بہتر جانا۔یہ کہنا ناممکن ہےکہ حضرت سیِّدُنا صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہمقام توکل پر فائز نہ تھےحالانکہ اس مقام کا ان سےزیادہ حق دار اور کون ہوگا؟