ہوتے ہیں:(۱)… وہ جنہیں اختیار کرنا توکل سے نکال دیتاہے۔(۲)…وہ جو توکل سے نہیں نکالتے۔ان کی مزید دوقسمیں ہیں:ایک وہ جو یقینی ہوتے ہیں دوسرے وہ جوغالب گمان ہوتے ہیں۔یقینی اسباب اختیار کرکے بندہ توکل سے نہیں نکلتابشرطیکہ توکل کی کیفیت اورعلم پایا جائے۔ علم سے مراد اللہ عَزَّ وَجَلَّ پر بھروسا کرنا ہے نیز یقینی اسباب میں کیفیت اورعلم کےذریعہ توکل ہوتاہےعمل کے ذریعہ نہیں جبکہ غالب گمان میں کیفیت، علم اورعمل تینوں کے ذریعہ توکل ہوتا ہے۔
متوکلین کے تین درجات:
اسباب کے مذکورہ تینوں درجات کے اعتبار سے متوکلین کے بھی تین درجات ہیں۔
پہلا درجہ:
اس درجہ پر حضرت سیِّدُنا ابراہیم خوّاص رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اور ان جیسے بزرگ حضرات رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰی فائز ہیں۔ یہ لوگ بغیر زادِراہ کے جنگلوں میں سفر کرتے ہیں اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے فضل پر بھروسا کرتے ہیں کہ وہ ہفتہ یا اس سے کچھ زائد دن صبر کرنےکی طاقت دے گا یا کچھ خوراک عطا کردے گا یا گھاس پر گزارہ کرنا آسان کردے گا اور اگرکوئی چیز نہ مل سکی تو اپنی رضا پر ثابت قدم رکھتے ہوئے موت دے دےگا کیونکہ جو زادِراہ لےکر جائے توممکن ہے اس کا زادِراہ گم ہوجائے یا جانور بھاگ جائےاور وہ بھوک سے مرجائےکیونکہ بھوک سے مرنا زادِراہ کی موجودگی میں اسی طرح ممکن ہےجس طرح نہ ہونے کی صورت میں ممکن تھا۔
دوسرا درجہ:
شہر یا گاؤں میں رہتے ہوئے گھر یا مسجد میں بیٹھا رہے،ایسے شخص کا درجہ اگر چہ پہلے سے کم ہے لیکن پھر بھی ”مُتَوَکِّلْ“ ہےکیونکہ یہ کوشش اور ظاہری اسباب چھوڑ دیتا ہےاورمخفی اسباب کے اعتبار سے اپنے معاملات میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے فضل پر بھروسا کرتاہے،البتہ شہرمیں رہنا رزق ملنے کا سبب ہےاور یہ فائدہ مند اسباب میں سے ہےلیکن یہ ایسا سبب ہے جواس کے توکل کو ختم نہیں کرتاجبکہ اس کا بھروسا اللہ عَزَّ وَجَلَّ پرہو نہ کہ شہروالوں پر کہ اسی نے شہر والوں کو کھاناپہنچانے کا پابند کیا ہے، اگر اللہ عَزَّ وَجَلَّ اپنے فضل سے لوگوں کو اس کی